کشمیر میں حکمران جماعت کے رہنما قتل، صورتِ حال کشیدہ

کشمیر میں مظاہرے تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

انڈیا کے زیرِ انتظام جنوبی کشمیر کے پلوامہ ضلعے میں حکمران جماعت پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کے مقامی رہنما عبدالغنی ڈار عرف غنی وکیل کو نامعلوم مسلح افراد نے پیر کے روز گولی مار ہلاک کر دیا۔

اس ہلاکت کے بعد وادی کی صورت حال مزید کشیدہ ہو گئی ہے۔

کئی ہندنواز سیاسی رہنماؤں کے گھروں پر گذشتہ ہفتوں کے دوران حملے بھی کئے گئے۔ پولیس کا دعویٰ ہے کہ غنی وکیل کو مسلح شدت پسندوں نے ہلاک کیا ہے تاہم کسی مسلح تنظیم نے تاحال ہلاکت کی ذمہ داری قبول نہیں کی۔

یہ واقعہ نئی دہلی میں وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی کی انڈین وزیراعظم نریندر مودی کے ساتھ ملاقات کے فوراً بعد پیش آیا جس میں محبوبہ نے مودی کے ساتھ کشمیر کی صورت حال پر تبادلہ خیال کیا۔

انھوں نے ملاقات کے بعد بتایا کہ ’اگلے دو یا تین ماہ کے دوران حالات میں بہتری آئے گی تو بعد میں تمام متعلقین کے ساتھ مذاکرات ہوں گے اور یہ کہ 'بات چیت کے بغیر مسئلہ کشمیر کا حل ممکن نہیں۔‘

دریں اثنا کشمیر کے ایک کالج پر فوج کی چھاپے کے بعد پوری وادی میں طلبہ و طالبات سراپا احتجاج ہیں۔ ایک ہفتے کی تعطیل کے بعد پیر کے روز سکول اور کالج کھلتے ہی مظاہروں کا سلسلہ پھر سے شروع ہو گیا۔ اس دوران اتوار کو ضلع بڈگام میں فوج نے ایک جھڑپ کے دروان ایک پاکستانی اور ایک مقامی شدت پسند کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا۔

بڈگام کے ہی بیروہ علاقے کے 26سالہ فاروق ڈار کو نو اپریل کی صبح انتخابات کے دوران فوجی جیپ کے ساتھ باندھ کر قریہ قریہ گھمایا گیا اور زد کوب کیا گیا۔ کالج پر چھاپے، فاروق ڈار کے ساتھ غیر انسانی سلوک اور طلبہ پر زیادتیوں کے خلاف پوری وادی میں غم اور غصے کی لہر دوڑ گئی ہے۔

پارلیمنٹ کی ایک نشست کے لیے جنوبی کشمیر کے چار اضلاع میں 25 مئی کو انتخابات ہونے والے ہیں۔ لیکن اپوزیشن جماعتوں نے موجودہ حالات کو خطرناک قرار دیتے ہوئے نہ صرف انتخابات ملتوی کرنے کا مطالبہ کیا ہے بلکہ ریاست میں صدرراج نافذ کرنے کی تجویز بھی پیش کی ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں