گوا: ماپوسا کا جمعہ بازار، سیاحوں کے لیے پرکشش

گوا تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption انڈیا کے مغربی ساحل اور بحر عرب کے مشرقی ساحل پر آباد گوا دنیا بھر کے سیاحوں کے لیے کشش رکھتا ہے

گوا کا ساحلی علاقہ سیاحوں کی بہشت ہے۔ اس کا ہر حصہ بیرونی ممالک سے آنے والے سیاحوں کے لیے تفریح اور دل بستگی کا ذریعہ ہے۔

گوا کے شمالی حصے میں بسا ماپوسا اپنے جمعہ بازار کی وجہ سے کافی شہرت رکھتا ہے۔ گوا میں رہنے والے اور باہر سے آنے والے سیاح اپنے جمعے کا دن اس بازار کے لیے وقف رکھتے ہیں۔

16 ویں صدی کے ایک ڈچ اخبار میں اس بازار کا ذکر 'گرینڈ بازار' کے عنوان سے ملتا ہے جو اس حقیقت کو واضح کرتا ہے کہ یہ بازار صدیوں پرانا ہے۔

٭ مالیرکوٹلہ کی کہانی

٭ بردوان کا تحفہ سیتا بھوگ مٹھائی

٭ سورت میں کھاؤ پیو، کاشی میں مرو

راوی کا کہنا ہے کہ پانچ سو سال قبل کنکیشور بابا کے مندر کے گرد ایک چھوٹا سا بازار وجود میں آیا جہاں زائرین کے لیے مندر میں چڑھاوے کے سامان تازہ پھل اور کیلے دستیاب تھے۔ مندر کے قریب ہی سینٹ جیروم کا گرجا گھر تھا جہاں تمام مذاہب کے لوگ اپنے مقاصد کے لیے دعائيں مانگنے آتے تھے۔ وقت کے ساتھ اس کے زائرین اور بازار کی دکانوں میں اضافہ ہوتا گیا اور آج عصر حاضر میں اس نے ایک وسیع بازار کی شکل اختیار کر لی ہے۔ کم قیمت پر اچھا اور تازہ سامان یہاں کی پہچان ہے۔

کہا جاتا ہے کہ ماپوسا کا علاقہ کاشتکاروں سے آباد تھا جو 'گن کاری' کہلاتے تھے۔ مختلف حملہ آوروں نے اس علاقے پر اپنی چھاپ چھوڑی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption مختلف قسم کے مصالحوں میں تلے اور بھنے کاجو دکانوں میں نظر آتے ہیں

ماپوسا کے جمعہ بازار کے خریدار تازہ سبزیاں، پھل اور گھر میں کوٹے اور پسے مصالحوں کے خریداری کے لیے آتے ہیں۔ ان میں امرناتھ کے پتے، تازہ چیکو، فنس اور گوا کے خاص کیلے موئیرا اہم ہیں۔ یہ بازار گاؤں اور اس کے قرب و جوار میں آباد لوگوں کو ذریعہ معاش فراہم کرتا ہے۔ خواتین تازہ ترین مصالحوں کو کوٹ کر بازار میں فروخت کرتی ہیں اور مزیدار کھانے بنا کر گاہکوں کو للچاتی ہیں۔

ترکاریوں، پھلوں اور مصالحوں کے علاوہ جمعہ بازار میں کمہار اپنی ہنر مندی کے نمونے دکھاتے ہیں اور باہر سیاحوں سے داد تحسین پاتے ہیں۔ ان کا بنایا مرغ کی شکا کا خوبصورت جگ گوا کے ہر گھر میں پایا جاتا ہے۔

بازار کا اندرونی حصہ بہت دلچسپ ہے جو کہ خواتین کی مملکت ہے۔ گاؤں کی عورتیں اپنے گھروں سے تیار شدہ کھانا لاکر یہاں فروخت کرتی ہیں۔ یہ کھانے گوا کے پسندیدہ کھانے ہوتے ہیں اور لوگ جمعہ بازار کے سیرسپاٹوں سے تھک کر ان کھانوں کا لطف اٹھاتے ہیں۔

تازہ بنی ڈبل روٹی میں چٹ پٹے مصالحے اور سوسیج کے سینڈوچ، سانا چاول سے بنے کیک اور سورپوٹیل گوا کے خاص پکوان ہیں۔ اور مچھلی سے بنے عمدہ روایتی پکوان کھانے کے لیے یہاں ہر جگہ سے لوگ آتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption ساحل پر کپڑوں کی دکانیں سیاحوں کو اپنی جانب متوجہ کرتی ہیں

تیار شدہ کھانوں کے علاوہ تازہ گوشت، سمندر سے نکالی گئی تازہ مچھلیاں، مختلف قسم کے اچار جن میں بطخ، جھینگا اور گوشت کے اچار قابل ذکر ہیں۔ کاجو سے بنائی جانے والی گھریلو شراب 'فینی' کے لیے گاہک ایک دوسرے پر ٹوٹے پڑتے ہیں۔

جمعہ بازا الگ الگ حصوں میں بٹا ہوا ہے۔ مصالحوں، سبزی اور پھلوں کے علاوہ یہاں کیک کی کافی دکانیں ہیں جہاں ڈوڈول، بیبنکا، امرود سے بنے خوان اور مختلف قسم کے بسکت ملتے ہیں۔

اس کے علاوہ مچھلی بازار علیحدہ ہے جہاں ہر قسم کی تازہ مچھلیاں گاہکوں کی توجہ کا مرکز ہوتی ہیں۔ اس کے علاوہ سوکھی مچھلی، ابلی مچھلی، مصالحے سے لت پت مچھلی اور مچھلی کے اچار بازار کی شان بڑھاتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption تازہ مچھلیوں کے لیے گوا کے لوگ جمعہ بازار کا رخ کرتے ہیں

ایک طرف کاجو کے ڈھیر لگے ہیں جو ہر سیاح کی پسند ہیں۔ گرمیوں میں یہ بازار گوا کے مخصوص آموں سے بھرے ہوتے ہیں۔

الغرض ماپوسا کا یہ بازار اپنی نوعیت کا الگ بازار ہے اور خاص و عام کی دلچسپی کا باعث ہے۔

٭ سلمیٰ حسین کھانا پکانے کی شوقین، ماہر طباخ اورکھانوں کی تاریخ نویس ہیں۔ ان کی فارسی زباندانی نے عہد وسطی کے مغل کھانوں کی تاریخ کے اسرار و رموز ان پر کھولے۔ انھوں نے کئی کتابیں بھی لکھی ہیں اور بڑے ہوٹلوں کے ساتھ فوڈ کنسلٹنٹ کے طور پر بھی کام کرتی ہیں۔ سلمیٰ حسین ہمارے لیے مضامین کی ایک سیریز لکھ رہی ہیں۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں