امریکہ سلامتی کونسل کی منظوری کے بغیر شمالی کوریا کے خلاف کارروائی سے باز رہے: چین

شی جن پنگ تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption شی جن پنگ کے مطابق چین قیامِ امن کے لیے امریکہ سمیت تمام فریقوں کے ساتھ مل کر کام کرنے کو تیار ہے

چین کے صدر شی جن پنگ نے اپنے امریکی ہم منصب ڈونلڈ ٹرمپ پر زور دیا ہے کہ وہ شمالی کوریا کے معاملے میں تحمل سے کام لیں۔

انھوں نے یہ بات امریکی صدر کی جانب سے کی جانے والی ٹیلیفون کال پر ان سے گفتگو کے دوران کہی۔

٭ شمالی کوریا امریکی بحری جہاز ’ڈبونے کے لیے تیار ہے‘

٭ شمالی کوریا کے پاس کیا کچھ ہے

چین کے سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق صدر شی جن پنگ نے امریکی صدر کو خبردار کیا کہ وہ شمالی کوریا کے خلاف اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل سے منظوری لیے بغیر کسی بھی کارروائی سے باز رہیں۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ چین پرامید ہے کہ فریقین تحمل کا مظاہرہ کریں گے اور کسی بھی ایسی حرکت سے گریز کریں گے جس سے جزیرہ نما میں پہلے سے تناؤ کا شکار حالات مزید خراب ہوں۔

چینی صدر نے کہا کہ 'جوہری معاملہ صرف اسی صورت میں جلد حل کیا جا سکتا ہے جب تمام متعلقہ ممالک ایک ہی سمت میں آگے بڑھیں اور چین قیامِ امن کے لیے امریکہ سمیت تمام فریقوں کے ساتھ مل کر کام کرنے کو تیار ہے۔'

چینی صدر کی جانب سے یہ پیغام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب جاپان کے دو بحری جنگی جہازوں نے امریکی جنگی بیڑے میں شامل بحری جہازوں کے ساتھ جنگی مشقیں کی ہیں جو جزیرہ نما کوریا کی جانب بڑھ رہے ہیں۔

یہ بیڑا امریکی صدر ٹرمپ کی جانب سے اس تنبیہ کے ساتھ بھیجا گیا ہے کہ شمالی کوریا کے جوہری عزائم کے معاملے پر امریکہ کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو گیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption امریکی جنگی جہاز یو ایس ایس کارل ونسن بحیرۂ فلپائن میں جاپانی بحریہ کے ساتھ مل کر جنگی مشقوں میں حصہ لے رہا ہے

یہ بیڑا جزیرہ نما کوریا کے قریب پانیوں میں مشقیں کرے گا تاہم پیر کو شمالی کوریا کی جانب سے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکی طیارہ بردار بحری جہاز یو ایس ایس کارل ونسن کا بھیجا جانا 'انتہائی خطرناک اقدام ہے۔'

اس سے قبل اتوار کو شمالی کوریا کے سرکاری میڈیا نے کہا ہے کہ ان کا ملک امریکی طیارہ بردار بحری جہاز کو 'ڈبونے کے لیے تیار ہے۔'

امریکی صدر نے چینی ہم منصب کے علاوہ جاپانی وزیراعظم شنزو ایبے سے بھی فون پر بات کی جس کے دوران جاپانی وزیراعظم نے امریکی صدر کے اس موقف کی حمایت کی کہ شمالی کوریا کے جوہری معاملے میں تمام آپشن کھلے ہیں۔

خیال رہے کہ شمالی کوریا منگل کو اپنا فوج کے قیام کی 85ویں سالگرہ منا رہا ہے اور ماضی میں وہ اس دن کی مناسبت سے جوہری اور میزائل تجربے کرتا رہا ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں