چھتیس گڑھ: ماؤ نواز باغیوں کے حملے میں 24 اہلکار ہلاک

انڈیا تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption انڈیا کی کئی وسطی اور مشرقی ریاستوں میں حکومت مخالف باغی سرگرم ہیں

انڈیا کی ریاست چھتیس گڑھ میں مشتبہ ماؤ نواز باغیوں کے حملے میں کم از کم 24 پولیس اہلکار ہلاک ہوگئے ہیں۔

حالیہ برسوں میں باغیوں کی جانب سے یہ سب سے بڑا حملہ قرار دیا جارہا ہے۔

اس حملے میں سکما ضلعے میں سڑک تعمیر کرنے والے مزدوروں کی حفاظت پر معمور اہلکاروں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ حملے کے بارے میں متضاد اطلاعات موصول ہورہی ہیں تاہم ایک اطلاع کے مطابق یہ حملہ 300 باغیوں نے کیا۔

خیال رہے کہ چھتیس گڑھ میں عرصہ دراز سے ماؤ نواز باغیوں کی جانب سے بغاوت جاری ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ کمیونسٹ حکومت اور غریب قبائلیوں کے حقوق کے لیے لڑ رہے ہیں۔

اس شورش کا آغاز مشرقی ریاست مغربی بنگال میں 1960 کی دہائی میں ہوا ہے اور بعد میں کئی اضلاع میں پھیل گئی۔

اطلاعات کے مطابق حالیہ حملہ پیر کو مقامی وقت کے مطابق دن ایک بجے نیم فوجی دستے سینٹرل ریزرو پولیس فورس (سی آر پی ایف) پر کیا گیا اور جھڑپیں کئی گھنٹے تک جاری رہیں۔

تاہم یہ واضح نہیں ہو سکا کہ ماؤ نوازوں کو اس کارروائی میں کوئی جانی نقصان اٹھانا پڑا یا نہیں۔

انڈین ذراع ابلاغ کے مطابق حملے میں زخمی ہونے والوں کو ہیلی کاپٹروں کے ذریعے قریبی ہسپتال منتقل کیا گیا ہے۔

جبکہ علاقے میں حملہ آوروں کی تلاش کے لیے اضافی نفری بھی بھیجی گئی ہے۔

خیال رہے کہ انڈیا کی کئی وسطی اور مشرقی ریاستوں میں حکومت مخالف باغی سرگرم ہیں اور اکثر انڈین سکیورٹی فورسز کو نشانہ بناتے رہتے ہیں۔

سنہ 2010 میں ریاست چھتیس گڑھ کے ضلع ڈنٹےواڈا میں ایک حملے 74 پولیس اہلکار ہلاک ہوئے تھے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں