انڈیا میں اب ہر گائے کی ہو گی اپنی الگ شناخت

گائے تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption گائے کی شناخت کے لیے اس کی عمر، جنس، نسل، قد، رنگ، سینگھ کی قسم، دم کی تفصیل اور جسم پر کسی ایسے نشان کا باقاعدہ ریکارڈ رکھا جائے گا

اب بنگلہ دیش سے کوئی گائے غیر قانونی طور پر انڈیا میں داخل نہ ہوسکے گی اور نہ انڈیا کی کسی گائے کو ڈرا دھمکا کر، بہلا پھسلا کر یا چوری چھپے کسی ایسے دیس لےجایا جاسکے گا جہاں اس کی جان کو خطرہ ہو!

ملک کی سڑکوں پر گائے اب سر اٹھا کر چل سکیں گی کیونکہ ان کی گمنامی کے دن ختم ہونے والے ہیں، ہر گائے کی ایک شناخت ہوگی، اس کا نام پتا سرکاری ریکارڈ میں درج ہوگا اور اگر کسی گائے کی قانونی طور پر خرید و فروخت ہوگی تو اس کی ملکیت کے دستاویزات اس کے ساتھ جائیں گے۔

کچھ گاڑیوں کے رجسٹریشن پیپرز کی طرح!

* جنگل کا راج بدلنے کو ہے!

وفاقی حکومت نے اس منصوبے کی تفصیلات سپریم کورٹ میں پیش کی ہیں۔ حکومت کا کہنا ہے کہ وہ گائیوں کی بین الریاستی اور بین الاقوامی سمگلنگ روکنا چاہتی ہے اور اس کے لیے وہ گائیوں کے لیے بھی 'آدھار کارڈ' کی طرز پر ایک سکیم شروع کرنے کی تیاری میں ہے۔

آدھار کارڈ کے تحت انڈیا میں ہر مرد عورت اور بچے کی 'بائیومیٹرکس' یا آنکھوں کا سکین اور انگلیوں کے نشان لیے جاتے ہیں اور ہر شخص کو ایک مستقل نمبر دیا جاتا ہے جس سے اس کی شناخت کی جاسکتی ہے۔

یہ تجویز ایک سرکاری کمیٹی نے دی ہے جس کے تحت ہر گائے کا ایک مخصوص نمبر ہوگا اور اس کی شناخت کے لیے اس کی عمر، جنس، نسل، قد، رنگ، سینگھ کی قسم، دم کی تفصیل اور جسم پر کسی ایسے نشان کا باقاعدہ ریکارڈ رکھا جائے گا جس سے اس کی شناخت کی جاسکے۔

بظاہر یہ نمبر گائے کی نسل کے تمام ایسے مویشیوں کے لیے لازمی ہوگا جو کسی کی ملکیت ہیں۔ ان گائیوں کو ایک ٹیگ یا بلّا جاری کیا جائے گا جس پر ان کا نمبر درج ہو گا۔

منصوبہ یہ ہے کہ صرف اُنھی مویشیوں کو ایک جگہ سے دوسری جگہ لے جانے کی اجازت ہوگی جن کے پاس یہ نمبر ہوگا، اور وہی سفر کے لائق گردانے جائیں گے۔

کمیٹی کی یہ سفارش بھی ہے کہ بنگلہ دیش سے ملحق ریاستیں بین الاقوامی سرحد سے بیس کلومیٹر کے فاصلے تک مویشیوں کی منڈیوں پر پابندی عائد کریں اور ایسے مویشیوں کی دیکھ بھال کی ذمہ داری ریاستی حکومتوں کی ہونی چاہیے جنہیں ان کے مالکوں نے بے سہارا چھوڑ دیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption کمیٹی کی یہ سفارش بھی ہے کہ ایسے مویشیوں کی دیکھ بھال کی ذمہ داری ریاستی حکومتوں کی ہونی چاہیے جنہیں ان کے مالکوں نے بے سہارا چھوڑ دیا ہے

گائیوں کے ساتھ ساتھ انسانوں کے آدھار کارڈ کا معاملہ بھی سپریم کورٹ میں ہے۔ عدالت یہ ہدایت دے چکی ہے کہ حکومت کی فلاحی اور امدادی سکیموں کے لیے آدھار کارڈ کو لازمی نہیں بنایا جاسکتا اور اس کیس میں ابھی حتمی فیصلہ آنا باقی ہے۔

اگر یہ سکیم عمل میں آجاتی ہے تو یہ گائیوں کے لیے اچھی خبر ہوگی، کیونکہ ان کی دیکھ بھال کا مستقل انتظام ہو جائے گا، اور خود ساختہ گئو رکشکھوں (گائے کے محافظین) کے لیے بری کیونکہ ان کے پاس زیادہ کام باقی نہیں رہ جائے گا!

انڈیا میں گائے کی سیاست بظاہر اپنے عروج کو پہنچ رہی ہے اور بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ ان بے چارے جانوروں کا ووٹ بھلے ہی نہ ہو، انہیں ایک ووٹ بینک کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔

ٹوئٹر پر کسی نے پوچھا ہے کہ کیا اب گائیوں کے بینک اکاؤنٹ بھی کھولے جائیں گے تاکہ فلاحی سکیموں کے تحت ان کے لیے مختص کی جانے والی رقم براہ راست ان کے کھاتوں میں جمع کرائی جاسکے؟

گائے کا تحفظ ضروری ہے لیکن دوسرے جانوروں کو بھی نظر انداز نہیں کیا جانا چاہیے ورنہ ان میں امتیازی سلوک کا احساس پیدا ہوگا، انھیں لگے گا کہ مذہب کی بنیاد پر ایک نسل پر تمام توجہ مرکوز کی جارہی ہے اور ان کے مفادات اور ان کے حقوق کو نظرانداز کیا جارہا ہے!

وفاقی حکومت کا اپنا نعرہ ہے: سب کا ساتھ، سب کی ترقی۔ وہ رنگ و نسل کی بنیاد پر کسی کے ساتھ بھی بھید بھاؤ نہ کرنے کی پابند ہے۔ وہ بھلے ہی جانور کیوں نہ ہوں، لیکن آبادی کے ایک بڑے حصے میں عدم انصاف کا احساس کسی بھی جمہوری ملک اور مہذب معاشرے کے لیے اچھی خبر نہیں!

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں