مالیگاؤں دھماکے کی ملزمہ سادھوی پرگیہ ضمانت پر رہا

Image caption سادھوی پرگیہ اور کرنل پروہت 2008 میں گرفتار کیے گئے تھے

بھارت کی ممبئی ہائی کورٹ نے مالیگاؤں بم دھماکے کی ایک اہم ملزمہ سادھوی پرگیہ ٹھاکر کو ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دیا ہے۔

انسداد دہشت گردی کی کے تفتیشی ایجنسی این آئی اے نے انہیں رہا کرنے کی درخواست کی تھی۔ تاہم عدالت عالیہ نے اس معاملے کے دوسرے اہم ملزم کرنل پرساد پروہت کی ضمانت کی درخواست مسترد کر دی۔

سادھوی پرگیہ ٹھاکر پر بم دھماکے کی سازش میں شریک ہونے اور مدد کرنے الزام تھا۔ این آئی اے نے اپنی تفتیش میں یہ نتیجہ اخذ کیا کہ ان کے خلاف ایسے کوئی شواہد نہیں جس سے ان کا قصور ثابت کیا جا سکے۔

تفتیشی ایجنسی نے 2016 میں ان کے خلاف ذیلی عدالت میں تمام الزامات واپس لے لیے تھے لیکن اس وقت عدالت نے انہیں ضمانت نہیں دی۔

ممبئی ہائی کورٹ نے پرگیہ کو پانچ لاکھ روپے کے مچلکے پر ضمانت پر رہا کیا ہے۔ عدالت نے انہیں اپنا پاسپورٹ ذیلی عدالت میں جمع کرنے اور اس مقدمے کے ثبوتوں کے ساتھ کوئی چھیڑ خانی نہ کرنی کی ہدایت کی ہے۔

دھماکے کے متاثرین میں سے ایک کے وکیل نے عدالت کے روبرو یہ دلیل دی تھی کی کہ ملزمہ پرگیہ نے دھماکے سے قبل سازش تیار کرنے کے لیے کی جانے والی کئی ملاقاتوں میں حصہ لیا تھا اور ان کے خلاف ثبوت موجود ہیں۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ جب مہاراشٹر پولیس کی خصوصی ٹیم نے اس معاملے کی تفتیش مکمل کر لی تھی تو پھر این ائی اے کا از سر نو اس کی تفتیش کرنا غیر قانونی تھا۔ عدالت نے ان کی دلیل مسترد کر دی۔

مالیگاؤں میں یہ بم دھماکہ ستمبر 2008 میں ہوا تھا جس میں چھ افراد ہلاک اور تقریـباً سو زخمی ہوئے تھے۔ سادھوی پرگیہ اور کرنل پروہت 2008 میں گرفتار کیے گئے تھے۔ اس وقت سے وہ قید میں ہیں۔

اس معاملے کی تفتیش مہاراشٹر پولیس انسداد دہشت گردی اسکواڈ کے اس وقت کے سربراہ ہیمنت کرکرے نے کی تھی۔ ان کی اس تفتیش کے بعد بی جے پی اور ہندو تنظیموں کی جانب سے ان پر شدید نکتہ چینی کی گئی تھی اور وہ زبردست دباؤ میں تھے۔ ممبئی حملے کے دوران وہ دہشت گردوں سے لڑتے ہوئے مارے گئے تھے۔

اسی بارے میں