انڈیا: نئی دہلی کے بلدیاتی انتخابات میں عام آدمی پارٹی کی شکست

اروند کیجریوال تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ان انتخابات کو ریاست کے وزیر اعلی اروند کیجریوال اور ان کی عام آدمی پارٹی کی کارکردگی کے بارے میں ریفرینڈم سمجھا جا رہا تھا

بھارت کے دارالحکوت نئی دہلی میں بلدیاتی انتخابات کے دوران تینوں میونسپل کارپوریشنوں میں ‏عام آدمی پارٹی کو بھارتیہ جنتا پارٹی کے ہاتھوں شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

‏عام آدمی پارٹی نے اس شکست کے بعد الزام لگایا ہے کہ بی جے پی کی یہ جیت ’مودی لہر‘ کی وجہ سے نہیں بلکہ الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں کے فراڈ کا نتیجہ ہے۔

بی جے پی کو تینوں کارپوریشنوں میں دو تہائی سے بھی زیادہ نشستیں ملی ہیں اور عام آدمی پارٹی دوسرے نمبر پر رہی ہے۔

نامہ نگار شکیل اختر کے مطابق دہلی کی ان تینوں کارپوریشنوں میں بی جے پی دس برس سے اقتدار میں تھی اور دہلی کی سیاسی تاریخ میں یہ غالباً پہلا ایسا موقع تھا جب میونسپلٹی کے انتخاب وزیراعظم کے نام پر لڑے گئے۔

نامہ نگار کے مطابق ان انتخابات کو ریاست کے وزیر اعلی اروند کیجریوال اور ان کی عام آدمی پارٹی کی کارکردگی کے بارے میں ریفرینڈم سمجھا جا رہا تھا۔

‏عام آدمی پارٹی کے ترجمان گوپال رائے نے کارپوریشن میں پارٹی کی شکست کو تسلیم کرنے سے یہ کر انکار کر دیا کہ ووٹنگ مشینوں میں گھپلا کیا گیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ’یہ مودی لہر نہیں ہے یہ ای وی ایم لہر ہے۔ انھوں نے کہا ان کی جماعت گذشتہ ڈیڑھ مہینے سے ووٹنگ مشینوں میں فراڈ کا معاملہ اٹھا رہی ہے لیکن ابھی تک اس سلسلے میں کوئی قدم نہیں اٹھایا گیا ہے۔

اروند کیجریوال کے سابق ساتھی اور جماعت سے منحرف ہونے والے رہنما یوگیندر یادو نے کہا ہے کہ ان انتخابات میں دلی کی عوام نے اروند کیجریوال سے اپنی ناراضگی کا اظہار کیا ہے۔

’ووٹر بی جے پی کی کارپوریشنوں کی مایوس کن کاردگی سے زیادہ کیجریوال کی منفیت سے تنگ ہیں۔ اسی لیے انہوں نے کیجریوال کو مسترد کیا ہے۔‘

عام آدمی پارٹی کے رہنما آشوتوش نے نتائج کے بعد نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ان کی جماعت کی جانب سے عوامی فلاح و بہبود کے لیے جو اقدامات کیے گئے ان کے باوجود بھارتیہ جنتا پارٹی کی فتح حیران کن ہے۔

’کیجریوال کی حکومت نے سرکاری سکولوں کی حالت بہتر کی، ہسپتالوں میں علاج اور دوائیں مفت کر دیں، بجلی کی قیمت آدھی ہو گئی، پانی کی سپلائی مفت کر دی گئی ۔ اس کے بر عکس بی جے کی کارپوریشنز صرف کرپشن اور بدحالی کے لیے جانی جاتی تھیں لیکن اس کے باوجود اگر بی جے پی کی جیت ہو تو حیرانی ہی ہو گی۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP/GETTY IMAGES
Image caption دہلی کی سیاسی تاریخ میں یہ غالباً پہلا ایسا موقع تھا جب میونسپلٹی کے انتخاب وزیراعظم کے نام پر لڑے گئے

پنجاب کے ریاستی انتخابات کے بعد عام آدمی پارٹی کی یہ دوسری شکست ہے لیکن اس شکست کے باوجود وہ پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن پارٹی ہے اور ان کارپوریشنوں میں وہ دوسرے نمبر پر ہے جہاں پہلی بار اس کے متعدد ارکان ہیں۔ مقامی انتخابات میں کانگریس تیسرے مقام پر رہی ہے۔

بی جے پی کے رہنما منوج تیواری نے اس جیت کو وزیراعظم مودی کے کرشمے سے منسوب کیا ہے۔

بی جے پی نے ان انتخابات کے لیے ایک مہینے سے جنگی پیمانے پر ہر محاذ پر مہم چلائی تھی۔ میڈیا میں بھی عام آدمی پارٹی اور اروند کیجریوال کے خلاف ایک منظم مہم چلائی گئی تھی۔

بظاہر یہی لگتا ہے کہ تعلیم ، صحت اور کئی دیگر شعبوں میں اچھی کارکردگی کے باوجود بی جے پی میڈیا کے ذریعے کیجریوال اور ان کی پارٹی کا ایک منفی ایمیج بنانے میں کامیاب رہی۔

خیال رہے کہ عام آدمی پارٹی ایک متبادل سیاسی جماعت کے طورپر بھارت کی سیاست میں اتری تھی۔ ابتدا میں یہ بی جے پی اور کانگریس جیسی روایتی جماعتوں کے لیے زبردست چیلنج بنی لیکن رفتہ رفتہ یہ جماعتیں عام آدمی پارٹی پر حاوی ہوتی گئیں۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں