انڈیا کے زیر انتظام کشمیر کی سنگ بار لڑکیاں

کشمیری لڑکیاں تصویر کے کاپی رائٹ Bilal Bahadur

انڈیا کے زیر انتظام کشمیر سے آنے والی سنگ باری کی تصاویر میں پہلے زیادہ تر لڑکے دکھائی دیتے تھے لیکن اب سکیورٹی فورسز کے ساتھ ہونے والے جھڑپوں میں لڑکیاں بھی دکھائی دینے لگی ہیں۔

ایک ہفتے کی پابندی کے بعد وادی کشمیر کے سکول اور کالج جب دوبارہ کھلے تو سڑکوں پر کچھ اور ہی منظر دیکھنے کو ملا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Bilal Bahadur

ویسے تو کشمیر میں احتجاج اور سکیورٹی فورسز کے ساتھ جھڑپیں کوئی نئی بات نہیں ہے لیکن لڑکیوں کو سنگ باری میں شامل ہونے نئے رجحان کے طور پر ابھر رہا ہے۔

مقامی میڈیا کی رپورٹوں میں کہا جا رہا ہے کہ اب کشمیری لڑکیاں بھی آزادی اور انڈیا مخالفت کے نعرے لگا رہی ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Bilal Bahadur

ان میں سے اکثر سکول اور کالج جانے والی لڑکیاں ہیں۔ ان کی پیٹھ پر لدا بیگ اور یونیفارم اس تصدیق کرتے ہیں۔

کشمیر پر نظر رکھنے والے لوگ اس وادی میں ہونے والے احتجاجی مظاہروں اور پرتشدد جھڑپوں کا نیا چہرہ قرار دے رہے ہیں۔

نوجوان لڑکیاں سکیورٹی فورسز کے خلاف احتجاج کا جھنڈا بلند کر رہی ہیں۔ سوشل میڈیا پر یہ تصاویر تقریباً وائرل ہو گئی ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Bilal Bahadur

تصاویر میں لڑکیاں دیکھی جا سکتی ہیں جو پولیس اور سکیورٹی فورسز پر پتھر پھینک رہی ہیں۔

یہ تصاویر سری نگر کے مولانا آزاد روڈ پر موجود گورنمنٹ کالج فار ویمن کے قریب کی ہیں۔

سماجی حلقوں میں گورنمنٹ کالج فار ویمن کو ممتاز کالج سمجھا جاتا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Bilal Bahadur

24 اپریل کو سری نگر کے مختلف علاقوں میں سکیورٹی فورسز کے ساتھ طالبات کی جھڑپیں ہوئیں۔

اپریل میں ہی سری نگر میں ہوئے ضمنی انتخابات کے دوران محض 7 فیصد ووٹنگ کے درمیان خوب تشدد دیکھنے کو ملا۔

صورت حال اس وقت اور کشیدہ ہو گئی جب سکیورٹی فورس اور کشمیری نوجوان اپنے ساتھ ہونے والی زیادتیوں کی عکاسی والے ویڈیوز کو شیئرز کیا جانے لگا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Bilal Bahadur

کشمیر کی بگڑتی صورت حال سے پریشان وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی کو مرکزی حکومت سے بات چیت کرنے کے لیے نئی دہلی آنا پڑا۔

انھوں نے مرکزی حکومت سے اپیل کی ہے کہ وہ بات چیت کی پیشکش کریں اور کوئی ہم آہنگی کا راستہ نکالیں۔

محبوبہ پہلے بھارتیہ جنتا پارٹی کے ساتھ اتحاد کر کے مشکلات کا سامنا کر رہی ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Bilal Bahadur

پالیسی کمیشن کی میٹنگ میں حصہ لینے نئی دہلی آئیں ریاست کی وزیر اعلی محبوبہ مفتی نے کشمیر مسئلے پر وزیراعظم نریندر مودی سے پیر کو ملاقات کی۔

انھوں نے بار بار کہا کہ کشمیر پر اٹل بہاری واجپئی کی حکمت عملی کو اپنانے کی ضرورت ہے، کے دروازے سے سرے کو وہیں سے پکڑے جانا چاہیے جہاں واجپئی نے اسے چھوڑا تھا۔ کشمیر کے زیادہ تر سیاستدان ان دنوں واجپئی کی کشمیر پالیسی کا حوالہ دیتے ہیں اور اسے اپنانے پر زور دیتے ہیں.

تصویر کے کاپی رائٹ Bilal Bahadur

احتجاج پر قابو پانے کے لیے پولیس نے کہیں کہیں آنسو گیس کے گولے بھی چھوڑے۔

ادھر، انڈیا کے زیر انتظام کشمیر کے تمام اخبار، طالب علموں اور فوجی فورسز کے درمیان تازہ تصادم پر شدید تشویش کا اظہار کر رہے ہیں اور مودی حکومت سے اپیل کر رہے ہیں کہ وہ پاکستان سمیت 'تمام فریقوں' سے بات چیت کرے۔

پیر کو سری نگر کے لال چوک میں طالب علموں اور پولیس کے درمیان جھڑپ میں ایک سینیئر افسر اور دو طالبات زخمی ہو گئی تھیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Bilal Bahadur

خبر رساں ایجنسی پی ٹی آئی کے مطابق گذشتہ جمعرات کو بھی سرینگر کے نوكڈل علاقے میں ایسی ہی ایک جھڑپ میں ایک لڑکی زخمی بھی ہو گئی تھی.

زخمی لڑکی کا سری نگر کے شیف ہری سنگھ ہسپتال میں علاج کرایا جا رہا ہے۔ ریاست بھر میں ہو رہے ان احتجاجی مظاہروں کے پیش نظر ایک ہفتے کے لیے سکول اور کالج بند بھی کر دیے گئے تھے.

تصویر کے کاپی رائٹ Bilal Bahadur

بہت کشمیری اخباروں نے لکھا کہ ’طالب علم کلاس میں جائیں اور پولیس ان سے دور رہے۔'

کئی اخباروں نے ریاست کی وزیر اعلی محبوبہ مفتی کے اس بیان کو پہلے صفحے پر جگہ دی جس میں انھوں نے کہا کہ یہ مسئلہ سیاسی ہے اور اس کا سیاسی حل ہی نکل سکتا ہے۔

کئی اخباروں نے پی ڈی پی اور بی جے پی کی مخلوط حکومت کو ریاست کے خراب حالات کے لیے ذمہ دار ٹھہرایا اور اسے 'ناکام اتحاد' قرار دیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Bilal Bahadur

گذشتہ برس جولائی میں بھارتی سکیورٹی فورسز سے ہوئی تصادم میں عسکریت پسند برہان وانی کی موت کے بعد شروع ہونے والے تشدد میں 100 سے زیادہ لوگوں کی موت ہوئی تھی۔

چار ماہ تک مسلم اکثریتی آبادی والی وادی سلگتی رہی، اس میں 55 دن تو کرفیو لگا رہا۔اس موسم گرما میں بھی صورت حال بہت بہتر نہیں نظر آرہی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Bilal Bahadur