نیپال: ہمالیہ میں لاپتہ مہم جو 47 روز کے بعد زندہ مل گیا

تائیوان تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ بظاہر وہ پانی اور نمک پر گزارا کرکے زندہ بچے رہے

نیپال میں واقع ہمالیہ کے پہاڑی سلسلے میں اپنی گرل فرینڈ کے ہمراہ 47 روز قبل لاپتہ ہونے والے تائیوان کے 21 سالہ شہری کو زندہ بچا لیا گیا ہے۔

امدادی ٹیم نے نیپال کے ضلع ڈھڈنگ کے گاؤں ٹپلنگ کے قریب 8500 فٹ کی بلندی پر واقع ایک کھائی سے لیانگ شینگ یوئیہ کو تلاش کیا۔

ان کی 19 سالہ ساتھی لیو چین چن کی لاش بھی ان کے قریب ہی موجود تھی۔

لینگ کا علاج معالجہ کھٹمنڈو کے گرینڈی انٹرنیشنل ہسپتال میں کیا جارہا ہے جہاں ان کی حالت خطرے سے باہر بتائی گئی ہے۔

لیانگ کا علاج کرنے والے ڈاکٹر سنجے کرکی نے بی بی سی نیپالی کو بتایا کہ ’وہ اب آہستگی سے بول سکتے ہیں۔ انھوں نے مجھے بتایا کہ ان کی گرل فرینڈ کی موت تین روز پہلے ہوئی تھی۔ انھیں جسمانی چوٹیں نہیں ہیں لیکن ان کا جسم کیڑوں کے کاٹنے کے باعث دکھتا ہے۔‘

بتایا گیا ہے کہ سات ہفتے قبل لاپتہ ہونے سے لے کر اب ان کا تقریباً 30 کلو وزن کم ہوچکا ہے۔ جب وہ ملے ان کے بال جوؤں سے بھرے ہوئے تھے، اور ایک پاؤں سنڈیوں سے ڈھکا ہوا تھا۔

ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ بظاہر وہ پانی اور نمک پر گزارا کرکے زندہ بچے رہے۔

بی بی سی کو معلوم ہوا ہے کہ اس جوڑے کو سب سے پہلے مقامی لوگوں نے مقامی وقت کے مطابق صبح 11 بجے دیکھا تھا۔ جس کے بعد فوری طور پر ایک ہیلی کاپٹر کو جائے وقوعہ پر بھیجا گیا۔

تائیوان کی نیشنل ڈونگ ہوا یونیورسٹی کے طالب علم لیانگ اور لیو فروری میں انڈیا سے نیپال آئے تھے۔

لاپتہ ہونے سے قبل انھیں آخری بار شمالی ڈھڈنگ میں نو مارچ کو دیکھا گیا تھا جہاں سخت برفباری کے باوجود وہ پہاڑوں پر چہل قدمی کے لیے گئے تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ہلاک ہونے والی لیو نے فیس بک پر لکھا تھا کہ 'میں خواہش کرتی ہوں کہ میں کبھی اس حالت تک نہ پہنچتی'

’مسنگ ٹریکر ڈاٹ کام‘ ویب سائٹ کے مطابق اس جوڑے کو پہاڑی راستے پر مشکلات کا سامنا تھا جس میں کچھ سامان کی کمی بھی شامل تھی۔

ہلاک ہونے والی لیو نے فیس بک پر لکھا تھا کہ ’میں خواہش کرتی ہوں کہ میں کبھی اس حالت تک نہ پہنچتی۔‘

ریسکیو آپریشن کرنے والی ٹیم میں شامل مادھو بسنت نے بی بی سی کو بتایا کہ دونوں ٹریکرز بظاہر ’ڈھڈنگ سے گھٹلنگ گاؤں کی جانب چڑھائی چڑھتے ہوئے پھسلن زدہ راستے سے پھسل گئے تھے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’ایسا لگتا ہے کہ وہ نیچے گر گئے اور غار جیسی جگہ میں پھنس گئے اور دوبارہ اوپر نہ آسکے۔‘

اسی بارے میں