افغانستان: دولت اسلامیہ کے خلاف کارروائی میں دو امریکی فوجی ہلاک

ننگرہار تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption ننگرہار صوبے کے ضلع اچین کے قریب حال ہی میں امریکہ نے ’بموں کی ماں‘ کہلایا جانے والا 9800 کلوگرام وزنی بم گرایا تھا

امریکہ کے محکمۂ دفاع نے تصدیق کی ہے کہ افغانستان میں شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ کے خلاف ایک کارروائی میں دو امریکی فوجی ہلاک اور ایک زخمی ہوگیا ہے۔

پیٹاگون کے ترجمان کیپٹن جیف ڈیوس کا کہنا تھا کہ فوجی اہلکار صوبہ ننگرہار میں لڑائی کے دوران مارے گئے۔

اس سے قبل رواں ماہ کے آغاز میں امریکی فوج کے سٹاف سارجنٹ مارک ڈی الینسر کی اسی صوبے میں ہلاکت ہوئی تھی۔

’بموں کی ماں‘ نام کی لاج رکھنے میں ناکام؟

دولتِ اسلامیہ کے خلاف کارروائی میں امریکی فوجی ہلاک

ننگرہار: 'بموں کی ماں سے دولت اسلامیہ کے 90 جنگجو ہلاک‘

خیال رہے کہ حال ہی میں امریکی سیکریٹری دفاع جم میٹس نے افغانستان کا دورہ بھی کیا تھا۔

امریکی فوجی افغانستان میں شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ کے دھڑے دولت اسلامیہ خراسان کے خلاف کارروائی کر رہے ہیں۔

پیٹاگون کے مطابق یہ فوجی کارروائی افغان نیشنل ڈیفینس اور سکیورٹی فورسز کے اشتراک کے ساتھ کی گئی تھی۔

افغانستان میں امریکی افواج کے کمانڈر جنرل جان نکلسن کا کہنا ہے کہ ’دولت اسلامیہ خراسان کے خلاف جنگ دنیا کے لیے اہم ہے، لیکن افسوسناک بات یہ ہے کہ یہ قربانی سے خالی نہیں ہے۔‘

محکمۂ دفاع کے مطابق ہلاک ہونے والے فوجیوں کے خاندانوں کو اس بارے میں مطلع کر دیا گیا ہے تاہم ان کے نام عارضی طور پر ذرائع ابلاغ میں جاری نہیں کیے گئے۔

یہ فوجی کارروائی ننگرہار صوبے کے ضلع اچین کے قریب کی گئی جہاں حال ہی میں امریکہ نے ’بموں کی ماں‘ کہلایا جانے والا 9800 کلوگرام وزنی بم گرایا تھا۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں