ماؤنوازوں کی خونریز جنگ بے معنی ہو چکی ہے

ماؤ نواز
Image caption پچاس سال میں ماؤ نوازوں نے سینکڑوں حملے کیے ہیں اور ملک کے طول عرض میں ان کے خیال سے اتفاق رکھنے والے افراد ہیں

انڈیا کی وسطی ریاست چھتیس گڑھ میں گذشتہ پیر کو سکما علاقے میں بائیں بازو کے ماؤ نواز شدت پسندوں کے حملے میں نیم فوجی دستے کے 25 جوان مارے گئے۔

یہ حملہ دو سو سے تین سو ماؤ نوازوں نے انتہائی منظم طریقے سے کیا تھا۔ اس حملے کے بعد جائے واردات کے اطراف کے متعدد دیہات کے باشندے اپنا گھر بار چھوڑ کر وہاں سے فرار ہو گئے ہیں۔ مقامی باشندوں نے بتایا کہ پیر کے حملے کے بعد سکیورٹی فورسز نے انھیں زدو کوب کیا ہے۔

یہ سلسلہ بہت پرانا ہے۔ اس نکسلی تحریک کو کچلنے کیے لیے حکومت کی بنیادی حکمت عملی اب تک یہی رہی ہے کہ اسے طاقت سے کچل دیا جائے لیکن ابھی تک یہ پر تشدد تحریک ختم نہیں ہو سکی۔

ماؤ نواز یا نکسلی تحریک اس برس مئی میں 50 برس پورے کر رہی ہے۔ یہ تحریک سنہ 1967 میں شمالی بنگال کے ایک چھوٹے سے گاؤں نکسل باڑی میں کسانوں کی ایک بغاوت سے شروع ہوئی تھی جو اس زمین کا مالکانہ حق مانگ رہے تھے جس میں وہ کاشت کر رہے تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption سکما حملے میں زخمی ہونے والے جوانوں کا علاج جاری ہے

اس تحریک سے رفتہ رفتہ بنگال، اڑیسہ، بہار اور اتر پردیش کے ہزاروں تعلیم یافتہ شہری نوجوان منسلک ہوتے گئے۔ ان سب کا ایک ہی مقصد تھا کہ ملک میں دبے کچلے لوگوں کو برابری کا حق دلانا اور ملک میں ایک بہتر نظام قائم کرنا۔ اس تحریک کا محور چین میں کمیونسٹ انقلاب کے بانی ماؤزے تنگ تھے۔

ان رومانوی نوجوانوں کو لگا کہ انڈیا میں غربت و ناانصافی کا خاتمہ پارلیمانی جمہوریت سے نہیں بلکہ ایک پرتشدد انقلاب سے ہی ممکن ہے۔ بڑی تعداد میں نوجوانوں نے ملک اور غریب عوام کے ایک بہتر مستقبل کے لیے اپنا سب کچھ قربان کر دیا۔ یہ تحریک بنگال سے نکل کر، بہار، اڑیسہ ، آندھرا، مدھیہ پردیش، کیرالہ، مہاراشٹر اور اتر پردیش تک پھیل گئی۔

نکسلی تحریک کے نتیجے میں بنگال اور کیرالہ جیسی ریاستوں میں موثر زمینی اصلاحات ممکن ہو سکے۔ ماؤ نوازوں نے اتر پردیش اور بہار جیسی ریاستوں میں دلتوں اور قبائل پر ہونے والے اعلیٰ ذات کے مظالم اور تفریق کے خلاف بھی جد و جہد کی۔

انڈیا کی پارلیمانی جمہوریت نے وقت کے ساتھ ساتھ ملک کے حالات بدلنے میں تیزی سے اپنا کردار ادا کرنا شروع کیا۔

ملک کے حالات میں تبدیلی آئی۔ مختلف اداروں کو جمہوری اصولوں سے منسلک کیا گیا۔ حکومتوں اور سیاسی عمل میں جوابدہی کا پہلو بڑھنے لگا۔ بدلتے ہوئے حالات میں انتخابی سیاست میں یقین رکھنے والے نہ صرف اصل دھارے کی کمیونسٹ پارٹیوں کی مقبولیت گھٹنے لگی بلکہ نکسلی تحریک جیسی ماؤ نوز تنظموں اور ان کا تشدد کا نظریہ بھی بے معنی ہوتا گیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ CRPF
Image caption حکومت ہند نے نکسلیوں سے لڑنے کے لیے سپیشل دستے تیار کیے ہیں

ماؤ نواز تحریک آج بنیادی طور پر صرف چھتیس گڑ ھ تک محدود ہے۔ یہاں کا خاصا علاقہ جنگلوں پر محیط ہے اور ان جنگلوں میں صدیوں سے قبائلی آباد ہیں۔ یہ خطہ معدنیات سے پر ہے۔

حکومت ان میں سے بہت سے علاقوں میں کان کنی کرنا چاہتی ہے اور وہاں بڑی بڑی فیکٹریاں لگانے اور نئے شہر بسانے کا منصوبہ رکھتی ہے۔ اس کے لیے ان زمینوں سے ان قبائلیوں کو بے دخل کرنا پڑے گا۔ چھتیس گڑھ میں لڑائی زمین اور قبائلیوں کے حق کی ہے۔

نکسلی تحریک میں گذشتہ 50 برس میں ہزاروں لوگ مارے جا چکے ہیں۔ حکومت اس تحریک کو طاقت کے زور پر کچلنے کی کوشش کرتی رہی ہے جبکہ نکسلی سکولوں، سڑکوں، سرکاری دفتروں کو بم سے اڑا کر اور دور دراز کے علاقوں میں تعینات پولیس اور سکیورٹی اہلکاروں پر حملہ کر کے اس کا جواب دیتے رہے۔ تشدد، جوابی تشدد کا سبب بنتا ہے۔ یہ دونوں ہی فریق نہیں سمجھ سکے۔

موجودہ دور میں ماؤ نوازوں کی پرتشدد تحریک اور خونریزی بے معنی ہو چکی ہے۔ یہ تحریک غریب قبائلیوں کے حقوق اور انصاف کے مقاصد کو تشدد سے نہیں حاصل کر سکتی۔ یہ اب انھیں نقصان پہنچا رہی ہے۔

اس بے معنی خونریزی سے اس تحریک سے وابستہ سبھی پرانے رہنما بدظن اور منحرف ہو چکے ہیں۔ نکسلیوں اور ماؤ نوازوں کو اب تشدد کا راستہ ترک کرنا ہو گا۔ انھیں یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ ملک کے نظام کو بدلنے کے لیے تشدد کے بجائے جمہوری راستے پر چلنا ہو گا۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں