سینیئر افغان جنگجو گلبدین حکمت یار کی طالبان سے ہتھیار ڈالنے کی اپیل

تصویر کے کاپی رائٹ NOORULLAH SHIRZADA
Image caption گلبدین حکمت یار نے جلا وطنی کے بعد پہلی تقریر کی

سینیئر افغان جنگجو گلبدین حکمت یار نے تقریباً بیس سال کی جِلا وطنی کے بعد اپنی پہلی تقریر میں طالبان سے ہتھیار ڈالنے کی اپیل کی ہے۔

شدت پسند گروپ حزبِ اسلامی کے سربراہ گلبدین حکمت یار ستمبر میں افغان حکومت کے ساتھ امن معاہدے پر دستخط کیے تھے اور فروری میں اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل نے ان کے خلاف عائد پابندیاں ختم کرنے پر اتفاق کیا جس کے بعد حکمت یار ملکی سیاسی دھارے میں ان کی واپسی ہوئی۔

صوبہ لُغمان میں ایک تقریر میں انہوں نے طالبان سے اپیل کی کہ 'وہ بھی امن کے کارواں میں شریک ہو جائیں اور بقول ان کے اس بے معنی اور ناپاک جنگ کو روکیں'۔

گلبدین حکمت یار کی واپسی پر انسانی حقوق کے کارکنوں نے ناراضگی ظاہر کی ہے۔

ہیومن رائٹس واچ کی پیٹریشیا گوزمین کا کہنا تھا کہ ان لوگوں کی توہین ہے جو حکمت یار کے ہاتھوں مارے گئے اس طرح گناہ سے بچنے والوں کی حوصلہ افزائی ہوگی'۔