جنھوں نے 92 زندگیاں بچائیں

وید تصویر کے کاپی رائٹ MANSI THAPLIYAL
Image caption سورج پرکاش وید تین عشروں سے حادثات کا شکار ہونے والے لوگوں کی مدد کر رہے ہیں

انڈیا کے دارالحکومت دہلی کے سرکاری ہسپتالوں کے ہنگامی نگہداشت کے شعبوں کے اکثر ڈاکٹر سورج پرکاش وید سے واقف ہیں۔ اس 66 سالہ ٹیکسی ڈرائیور کو ’سنہرے گھنٹے کا شخص‘ کہا جاتا ہے۔

اس اصطلاح کا مطلب کسی ممکنہ مہلک حادثے کے بعد 60 منٹ کا دورانیہ ہے جس میں کسی زخمی شخص کے بچنے کا زیادہ امکان ہوتا ہے۔

گذشتہ تین عشروں سے وید حادثات کا شکار لوگوں کو شہر کے مختلف ہسپتالوں میں لے کر جاتے رہے ہیں۔

انھوں نے بی بی سی کو بتایا: 'میں نے اب تک 92 لوگوں کی زندگیاں بچائی ہیں۔ میں نے حادثات کے کیس تھانوں میں درج کروائے ہیں، عدالتوں میں بطور عینی شاہد پیش ہوا ہوں اور زخمیوں کے رشتہ داروں کے آنے تک ان کے سامان کی حفاظت کرتا رہا ہوں۔'

انڈیا کے لا کمیشن کے مطابق اگر زخمیوں کو 60 منٹ کے اندر اندر طبی امداد مل جائے تو ملک میں ٹریفک حادثات میں ہونے والی نصف اموات کو روکا جا سکتا ہے۔

تاہم سیو لائف فاؤنڈیشن نامی تنظیم کے ایک سروے سے معلوم ہوا کہ 74 فیصد لوگ حادثات میں زخمی ہونے والوں کی مدد نہیں کرتے۔ ان کی اکثریت پولیس کی پوچھ گچھ اور ہسپتالوں میں طویل عرصہ انتظار کرنے کی کوفت سے بچنا چاہتی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ MANSI THAPLIYAL
Image caption وید اپنے فون پر حادثات میں زخمی ہونے والوں کا ریکارڈ محفوظ رکھتے ہیں

وید اپنے پرانے موبائل فون پر حادثات کی کالز موصول کرتے ہیں اور ٹریفک کی بھیڑ سے بچنے کے لیے سکوٹر پر فرسٹ ایڈ کا سامان لے کر جائے حادثہ پر پہنچ جاتے ہیں۔

ان کی شہرت اس قدر پھیل چکی ہے کہ دہلی کے ٹیکسی اور رکشہ ڈرائیوروں کی تنظیم کے پاس ان کا نمبر موجود ہے اور وہ ہر حادثے کے وقت انھیں کال کرتے ہیں۔ حتیٰ کہ ان کی گاڑی پر بھی ان کا فون نمبر درج ہے اور لوگوں سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ حادثات کے وقت انھیں کال کریں۔

وہ کہتے ہیں: 'مجھے سنہری گھنٹے کی اہمیت کا اندازہ ہے۔ جب میں جائے حادثہ پر پہنچتا ہوں تو میں اس جگہ کا کنٹرول سنبھال لیتا ہوں اور لوگوں سے کہتا ہوں کہ وہ فوراً پولیس یا پھر ایمبولینس کے لیے کال کریں۔

تصویر کے کاپی رائٹ MANSI THAPLIYAL
Image caption حادثوں میں بچ جانے والے افراد بعد میں بھی وید سے رابطہ رکھتے ہیں

'اگر ٹریفک کی وجہ سے ایمبولینس آنے میں تاخیر ہو رہی ہو تو میں زخمی کو کسی رکشے یا کار میں ڈال دیتا ہوں۔ جب ڈرائیور کو پتہ چلتا ہے کہ میں خود ہی پولیس اور ہسپتالوں والوں سے نمٹ لوں گا تو وہ مدد کے لیے تیار ہو جاتے ہیں۔'

کئی دفعہ ایسا بھی ہوا کہ وید کو زخمیوں کو ہسپتال پہنچانے کے بعد ساری ساری رات قانونی پیچیدگیاں سلجھانے میں گزارنا پڑی۔

گذشتہ برس مئی میں انڈیا کی سپریم کورٹ نے فیصلہ دیا تھا کہ لوگوں کی خدمت کرنے والوں کو بےجا تنگ کیے جانے سے بچایا جائے گا۔

وید ٹرک اور ٹیکسی ڈرائیوروں کی تنظیم کے ساتھ مل کر حادثات کے شکار افراد کو جلد از جلد ہسپتال پہنچانے کی ضرورت اور اس نئے قانون سے متعلق آگاہی پھیلانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

ان کے والدین پاکستان سے ہجرت کر کے آئے تھے جس کے دوران ان کا گھربار چھن گیا اور ان کے والد کو خاندان کا پیٹ پالنے کے لیے ٹیکسی چلانا پڑی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption انڈیا میں ہر سال ایک لاکھ 40 ہزار افراد ٹریفک حادثات میں جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں

وید نے نویں جماعت تک پڑھا پھر وہ بھی ٹیکسی ڈرائیور بن گئے۔

جب ان کی عمر 24 سال تھی تب انھوں نے پہلی بار ایک حادثے میں زخمی ہونے والوں کو ہسپتال پہنچایا۔ اس کے بعد انھوں نے تہیہ کر لیا کہ وہ ٹریفک حادثات سے منہ نہیں موڑیں گے۔

دہلی کی پولیس نے انھیں سرٹیفیکیٹ اور نقد انعامات دیے ہیں جب کہ حکومت نے انھیں روڈ سیفٹی کی آگہی کے اعزاز سے نوازا ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں