بی جے پی کی پرچار مہم میں کشمیری مسلمان بھی شامل

امیت شاہ تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

انڈیا کی حکمراں جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی نے ملک گیر سطح پر پارٹی کو تو سیع دینے کی اپنی مہم میں 30 سے زیادہ کشمیری مسلم نوجوانوں کو شامل کیا ہے۔

اگرچہ بی جے پی انڈیا کے زیرِ انتظام جموں خطے میں مضبوط ہے تاہم کشمیر وادی میں وہ ابھی تک قدم نہیں جما سکی ہے۔

بی جے پی کے توسیعی پروگرام میں کشمیری نوجوانوں کی شمولیت کو پارٹی بہت اہمیت دے رہی ہے۔

کشمیر میں طلبہ سراپا احتجاج کیوں؟

کشمیر: کیا تشدد کی سیاست ناکام ہوئی ہے؟

انتخابات میں بی جے پی کی فتح کا مسلمان کیا مطلب نکالیں؟

'مسلمانوں میں تھوڑا خوف پھیلانا تو ضروری ہے'

پارٹی کے صدر صدر امیت شاہ پارٹی کے تنظیمی ڈھانچے کو وسعت دینے کے اپنے پروگرام کے نفاذ کے لیے تین مہینے کے لیے پورے ملک کے دورے پر ہیں۔ جموں میں جماعت کے حامی دانشوروں اور کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے امت شاہ نے بی جے پی کے پروگرام میں کشمیری نوجوانوں کی شمولیت کو بہت حوصلہ افزا قرار دیا ہے۔

امیت شاہ نے کہا '30 سے زیادہ کشمیری مسلم نوجوان پارٹی کے دین دیال اوپادھیائے توسیعی پلان کا حصہ ہیں۔ ان میں سے بیشتر انجینئیر اور ڈبل گریجویٹ ہیں۔ یہ نوجوان پارٹی کی توسیع کے لیے چھہ مہینے کام کرنا چاہتے ہیں۔ میں تہہ دل سے ان کا استقبال کرتا ہوں۔ یہ ہماری پارٹی کے لیے ایک خوش آئند پیش رفت ہے۔'

بی جے پی نے سنہ 2019 کے پارلیمانی انتخابات سے قبل پارٹی کو ملک گیر سطح پر پھیلانے کے لیے ساڑھے تین لاکھ کارکنوں کو منتخب کیا ہے جو ملک کے مختلف علاقوں میں جا کر مودی حکومت اور بی جے پی کی پالیسیوں کو اجاگر کریں گے۔ یہ کارکن 15 دنوں سے لے کر ایک برس تک پارٹی مہم چلائیں گے۔ کشمیری نوجوانوں کو بھی اسی مہم کے لیے منتخب کیا گیا ہے۔

ان کشمیری نوجوانوں کو ایک ایسے وقت میں بی جے پی کی مہم میں شامل کیا گیا ہے جب وادی کی صورتِ تحال انتہائی کشیدہ ہے۔ طلبہ کی بے چینی کے بعد سکول اور کالجز بند ہیں اور وادی میں احتجاجی مظاہروں پر قابو پانے کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی ہے۔

اگرچہ بی جے پی نے کشمیر وادی میں گذشتہ ریاستی انتخابات میں بعض حلقوں سے انتخاب لڑا تھا لیکن اسے کامیابی نہیں مل سکی تھی۔

بی جے پی، پی ڈی پی کے اتحاد کے ساتھ جموں و کشمیر میں اقتدار میں ہے۔ وہ کشمیر وادی میں اپنا اثر بڑھانا چاہتی ہے تاکہ وہ اپنے زور پر اقتدار میں آ سکے۔

پارٹی کے صدر امیت شاہ نے پارٹی کے وزرا اور رہنماؤں پر زور دیا ہے کہ وہ کشمیر وادی میں لوگوں سے رابطہ قائم کر کے ان کی حمایت حاصل کریں۔

ادھر وادی کی صورتِ حال اس وقت انتہائی خراب ہے ۔ بی جے پی اپنے اتحادی پی ڈی پی کی بہت سی پالیسیوں بالخصوص سنگ باروں اور مظاہرین سے نمٹنے کے سوال پر اتفاق نہیں رکھتی۔

مبصرین کا خیال ہے کہ اگر صورت حال مزید خراب ہوئی تو ریاست میں گورنر راج نافذ ہو سکتا ہے۔

بی جے پی رفتہ رفتہ کشمیر وادی میں اپنا ایک مضبوط تنظیمی ڈھانچہ قائم کرنے کا سوچ رہی ہے۔

وادی میں علیحدگی پسند سائیڈ لائن ہو چکے ہیں، مین سٹریم جماعتیں اپنی ساکھ کھو چکی ہیں، وادی میں اس وقت ایک مکمل سیاسی خلا ہے۔

اس کنفیوژن کی فضا میں بی جے پی کو وادی میں رفتہ رفتہ اپنا اثر ورسوخ بڑھانے کا ایک موافق موقع مل سکتا ہے اور وہ اسی مشن کشمیر پر کام کر رہی ہے۔