مالی کے جنگلوں میں شدت پسند ہلاک کر دیے: فرانس کا دعویٰ

فرانسیسی فوجی تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption فرانس نے خطے میں چار ہزار فوجی تعینات کر رکھا ہے

فرانس کا کہنا ہے کہ مغربی افریقہ میں تعینات ان کے فوجیوں نے برکینا فاسو سے ملحق مالی کی سرحد میں کم از کم 20 شدت پسندوں کو ہلاک کر دیا ہے یا انھیں پکڑ لیا ہے۔

فرانس کی علاقائی افواج نے ایک بیان میں کہا ہے کہ اس کارروائی میں فضائی اور زمینی فورسز شامل تھیں۔ تاہم بیان میں کسی جنگجو تنظیم کا نام ظاہر نہیں کیا گيا۔

یاد رہے کہ اسی علاقے میں رواں ماہ کے اوائل میں ایک فرانسیسی فوجی کو ہلاک کر دیا گيا تھا۔

نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ افریقی ملک مالی میں فرانسیسی افواج کے سنہ 2013 میں ہونے والے آپریشن کے بعد بھی اسلام پسند جنگجو تنظیمیں مسلسل حملے کرتی رہتی ہیں۔ فرانسیسی افواج نے جہادی گروپوں کو ملک کے شمالی علاقوں سے نکالنے کے لیے آپریشن کیا تھا۔

فرانسیسی فوج کے ایک ترجمان نے بتایا کہ ان جنگجوؤں کو گاؤ صوبے کے جنوب مغربی علاقے فولسارے کے جنگلوں میں گھیر لیا گیا تھا۔

سنیچر کو مالی کی قومی اسمبلی نے ملک میں مزید چھ ماہ کے لیے حالت ایمرجنسی میں توسیع کرنے کے حق میں ووٹ دیے تاکہ ملک میں حملے میں اضافے کو کم کیا جا سکے۔

اطلاعات کے مطابق حالیہ عرصے میں پڑوسی ملک برکینا فاسو میں بھی پر تشدد واقعات میں اضافہ ہوا ہے۔

دسمبر کے مہینے میں مالی سے ملحق برکینا فاسو کی سرحد میں ہونے والے ایک حملے میں ایک درجن فوجی مارے گئے تھے۔

اسی طرح گذشتہ سال جنوری میں دارالحکومت اوآگادوگو کے ایک ہوٹل میں ہونے والے حملے میں 29 افراد مارے گئے تھے جن میں سے کئی غیر ملکی بھی تھے۔

خیال رہے کہ فرانس کا ایک عرصے تک مالی پر سامراجی اقتدار تھا اور اس نے وہاں شدت پسندی سے لڑنے کے لیے چار ہزار فوجی تعینات کر رکھے ہیں۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں