کشمیر میں مظاہروں کی شدت اور تشدد میں اضافہ، انتخابات دوبارہ ملتوی

انڈیا تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption سکولوں اور کالجوں کے طلبا نے مظاہروں کا سلسلہ جاری رکھا ہے

انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں مظاہروں کی بے قابو لہر، سرحدی تناؤ اور انڈین فورسز پر ہونے والے مسلح حملوں کی شدت میں اضافے کے بعد جنوبی کشمیرمیں پارلیمنٹ کی ایک نشست کے لیے مجوزہ ضمنی انتخابات غیرمعینہ مدت کے لیے ملتوی کر دیے گئے ہیں۔

کشمیر کی سنگ بار لڑکیاں

’کشمیر انڈیا کے ہاتھوں سے نکل رہا ہے؟‘

سری نگر میں بی بی سی کے نامہ نگار ریاض مسرور کے مطابق انڈین حکومت کے الیکشن کیمشن نے پیر کی شب دس صفحات پر مشتمل ایک حکم نامے میں بتایا کہ انتخابات کے انعقاد کے لیے حالات سازگار نہیں ہیں۔

پیر کو ہی جنوبی کشمیر کے کولگام ضلع میں حزب المجاہدین نے مقامی بینک کی ایک کیش وین پر حملہ کیا جس میں پانچ پولیس اہلکار اور دو بینک محافظ ہلاک ہوگئے۔ مارے گئے پولیس اہلکاروں سے ہتھیار بھی چھین لیا گیا۔

اسی روز جنوبی ضلع پونچھ میں لائن آف کنٹرول کے قریب کرشنا گھاٹی سیکٹر میں بھارتی فوج نے دعویٰ کیا کہ پاکستانی افواج نے انڈین فوجی تنصیبات کو راکٹوں اور مارٹر گولوں سے نشانہ بنایا جس میں دو فوجی مارے گئے۔ اتوار کو سری نگر کے خانیار علاقے میں فورسز پر بم حملہ ہوا جس میں ایک عمررسیدہ شخص مارا گیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption خیال کیا جاتا ہے کہ انڈین حکومت کشمیر میں گورنر راج نافذ کرنے کی تجویز پر غور کررہی ہے

اس دوران سکولوں اور کالجوں کے طلبا نے مظاہروں کا سلسلہ جاری رکھا ہے۔ حکومت نے حساس تعلیمی اداروں میں غیرمعینہ مدت تک چھٹی کا اعلان کیا ہے۔

وادی میں سیکورٹی اور سیاسی حالات پر غور کرنے کے لیے وزیراعظم نریندر مودی اور وزیرداخلہ راج ناتھ سنگھ نے گورنر این این ووہرا کو دلی طلب کرلیا ہے۔

خیال کیا جاتا ہے کہ انڈین حکومت کشمیر میں گورنر راج نافذ کرنے کی تجویز پر غور کررہی ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں