اترپردیش: مسلمان کاشتکار کی ہلاکت پر تین افراد گرفتار

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption یوگی آدتیہ ناتھ اترپردیش کے وزیر اعلی ہیں اور سخت گیر ہندو نظریات کے حامل کہے جاتے ہیں

بھارتی ریاست اترپردیش میں پولیس نے ایک مسلمان کاشتکار کو مار مار کر ہلاک کرنے کے شبہے میں تین افراد کو گرفتار کر لیا ہے۔

اطلاعات کے مطابق پولیس کو چیف منسٹر یوگی آدتیہ ناتھ کے حامی مسلمان مخالف 'ہندو یووا واہینی' گروپ کے پانچ افراد مطلوب تھے جن میں سے تین کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔

اترپردیش کے موجودہ انتہا پسند ہندو وزیر اعلیٰ نےاس گروپ کو ہندو مسلمان جوڑوں کے ملاپ کو روکنے کے لیے تشکیل دیا تھا۔

خبر رساں ادارے روائٹرز کے مطابق ساٹھ سالہ غلام احمد پر الزام تھا کہ انھوں نے ایک ہندو لڑکی کے مسلمان لڑکی سے شادی کرنے میں اس کی مدد کی تھی۔

اطلاعات کے مطابق منگل کے روز پانچ نوجوانوں نے غلام احمد کو اس وقت مار مار کر ہلاک کر دیا تھا جب وہ آموں کے باغ میں کام کر رہا تھا۔

یوگی آدتیہ ناتھ کے اترپردیش کے چیف منسٹر بننے کے بعد ہندو یووا واہنی گروپ مسلمان مخالف جذبات کو بھڑکا رہے ہیں اور نام نہاد 'لو جہاد' کے خلاف مہم شروع کر رکھی ہے۔ ہندو گروہ کا خیال ہے کہ مسلمان نوجوان ہندو لڑکیوں کو شادی کے لالچ میں ورغلا کر انھیں مسلمان بنا رہے ہیں۔

ریاست اترپردیش کے ضلع بلند شہر کے پولیس اہلکار جگدیش شرما نے کہا کہ ایک ہندو لڑکی کے ایک مسلمان لڑکے کے ہمراہ گھر سے بھاگنے پر علاقے میں مذہبی کشیدگی پیدا ہو گئی ہے اور ہندو یووا واہنی گروپ نے اسے 'لو جہاد' قرار دیا تھا۔

انتہا پسند ہندو گروپ نے تردید کی ہے کہ اس کا کوئی ممبر غلام احمد کے قتل میں ملوث ہے۔

ہندو گروپ کے ترجمان نے کہا کہ 'ہم ہندو لڑکیوں کے مسلمانوں سے شادی کے خلاف ہیں لیکن ہم کسی مجرمانہ کارروائی میں ملوث نہیں ہیں۔‘

اسی بارے میں