کشمیر: فوج کی جانب سے محاصرے کے بعد مظاہرے

انڈیا، کشمیر تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption کئی علاقوں میں طلبا و طالبات احتجاجی مظاہرے کر رہے ہیں

انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں مظاہروں کی شدت اور تشدد میں اضافے کے بعد فوج نے جنوبی کشمیر میں وسیع علاقے کا محاصرہ کر لیا ہے جب کہ کئی علاقوں میں طلبا و طالبات احتجاجی مظاہرے کر رہے ہیں۔

جنوبی کشمیر کے شہروں، پلوامہ اور کولگام میں بینک ڈکیتیوں کی کئی وارداتوں کے بعد فوج، پولیس اور نیم فوجی اہلکاروں نے درجنوں دیہاتوں کا محاصرہ کر کے شدت پسندوں کی تلاش شروع کر دی ہے۔

کشمیر میں مظاہروں کی شدت اور تشدد میں اضافہ، انتخابات دوبارہ ملتوی

'کیا کشمیر انڈیا کے ہاتھوں سے نکل رہا ہے؟'

انڈیا کے زیر انتظام کشمیر کی سنگ بار لڑکیاں

فورسز نے جمعرات کی صبح شوپیان ضلع کے درجنوں دیہاتوں کا محاصرہ کیا جس کے دوران لوگوں نے مزاحمت کی۔ مظاہرین نے محاصرے کے خلاف احتجاج کیا جب کہ سکیورٹی فورسز نے انہیں منتشر کرنے کے لیے لاٹھی چارج اور آنسو گیس کا استعمال کیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption کشمیر میں نو اپریل کے ضمنی انتخابات کے بعد سے صورت حال کشیدہ ہے۔

فوجی ذرائع کا کہنا ہے کہ شوپیان کا محاصرہ محض بینک لوٹنے والوں کے خلاف نہیں ہے بلکہ وہاں درجنوں مسلح شدت پسند سرگرم ہیں جنہیں تلاش کیا جائے گا۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ آپریشن کے دوران فوجی ہیلی کاپٹر ان علاقوں میں گشت کر رہے تھے۔

پولیس نے بینکوں پر حملہ کرنے والوں کی معلومات دینے والے کو دس لاکھ روپے انعام دینے کا اعلان کیا ہے۔

دریں اثنا شمالی کشمیر کے سوپور قصبے کے تعلیمی اداروں میں جمعرات کی صبح جیسے ہی معمول کی سرگرمیاں شروع ہوئیں تو طلبا و طالبات نے ہند مخالف مظاہرے کیے۔ پولیس کی کارروائی کے نتیجے میں چھ لڑکیاں زخمی ہوگئیں جب کہ درجنوں بیہوش ہوگئیں۔

واضح رہے کہ مسلح حملوں اور مظاہروں کی شدت میں اضافے کے بعد جنوبی کشمیر میں انڈین پارلیمان کی ایک نشست کے لیے مجوزہ ضمنی انتخابات غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کیے گئے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption مظاہروں میں طلبا کے ساتھ ساتھ طالبات بھی شریک ہو رہی ہیں۔

اس سے قبل گذشتہ ماہ نو اپریل کو ضمنی انتخابات کے پہلے مرحلے کے دوران وسیع پیمانے پر مظاہرے ہوئے تھے اور سکیورٹی فورسز کی کارروائی میں ایک ہی دن میں آٹھ افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption مظاہروں کی وجہ سے حکومت نے تعلیمی اداروں میں غیر معینہ مدت تک چھٹی کا اعلان کیا ہے۔

اس دوران سکولوں اور کالجوں کے طلبا نے مظاہروں کا سلسلہ جاری رکھا جس کے بعد حکومت نے تعلیمی اداروں میں غیر معینہ مدت تک چھٹی کا اعلان کیا ہے۔

گذشتہ ہفتے لائن آف کنٹرول کے قریبی ضلع کپوارہ میں پنزگام فوجی کیمپ پر جمعرات کو علی الصبح مسلح شدت پسندوں نے 'خود کش' حملہ کیا جس میں ایک افسر سمیت تین فوجی اہلکار ہلاک ہو گئے جبکہ جوابی کارروائی میں دو حملہ آور مارے گئے۔

گذشتہ برس جولائی میں نوجوان عسکریت پسند رہنما برہان وانی کی تصادم میں ہلاکت کے بعد ایسی ہی تحریک چلی جو کئی ماہ تک جاری رہی۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں