عدالتی حکم پر مگ 21 کے حادثے میں زخمی ہونے والے پائلٹ کو معاوضہ

تصویر کے کاپی رائٹ VINEET KHARE

دہلی ہائی کورٹ کے باہر تیز دھوپ میں کھڑے ونگ کمانڈر سجيت سنگھ کے چہرے پر خوشی اور اطمینان کے تاثرات تھے۔ 2005 میں وہ مگ 21 طیارے پر تربیتی پرواز پر تھے کے اڑنے کے ایک منٹ کے اندر اندر ہی ان کا جہاز گر کر تباہ ہو گیا۔

حادثے میں ونگ کمانڈر سجيت سنگھ کی جان تو بچ گئی لیکن ریڑھ کی ہڈی میں لگی چوٹ کی وجہ وہ دوبارہ طیارہ اڑانے کے لیے فٹ نہیں رہے۔

عدالتی تحقیقات سے پتہ چلا کہ ہوائی جہاز کی پروڈکشن میں نقص کی وجہ سے حادثہ ہوا۔

12 سال بعد عدالت نے طیارہ ساز ایچ اے ایل (انڈیا ایرونوٹكس لمیٹڈ) اور حکومت کو حکم دیا کہ ونگ کمانڈر سجيت سنگھ کو 55 لاکھ روپے معاوضہ دیا جائے۔

سینیئر صحافی راہل بیدی بتاتے ہیں ’1966 سے 872 مگ 21 طیارے بھارتی فضائیہ میں شامل ہوئے۔ 1966 اور 2012 کے درمیان حادثات میں 482 مگ 21 طیارے تباہ ہوئے جس کے باعث 171 فائٹر پائلٹوں سمیت 39 عام شہریوں کی ہلاکت ہوئی۔ ان اموات کی کوئی تحقیقات نہیں ہوئیں، کسی نے کوئی سوال نہیں پوچھے۔‘

مگ 21 حادثے کے حوالے سے معاوضہ دینے کا یہ پہلا حکم ہے۔

عدالت نے اپنے حکم میں کہا ’ایک سپاہی اور ایک افسر کا احترام اور بنیادی حقوق کی طرح ہی ہے۔ انھیں محفوظ کام کی جگہ اور معیاری سامان سے محروم رکھنا ان کی زندگی اور ان کی ساکھ کے حقوق کی خلاف ورزی ہے۔‘

عدالتی حکم سے خوش 43 سالہ ونگ کمانڈر سجيت سنگھ نے کہا، ’یہ ایک تاریخی فیصلہ ہے۔ یہ معاملہ محفوظ ماحول میں کام کرنے کے حق کا ہے۔ میں چاہتا ہوں جو میرے ساتھ ہوا، وہ کسی اور کے ساتھ نہ ہو۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

مگ 21 بنانے والی سرکاری کمپنی ایچ اے ایل طیارے میں کسی خرابی سے انکار کرتی رہی ہے۔ حادثے کی سرکاری کورٹ آف انكوائری کے نتائج کی معلومات ونگ کمانڈر سجيت سنگھ کو نہیں دی گئی تھیں۔

عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا،’ ایچ اے ایل کا مسلسل یہ کہنا ہے کہ اس کا کوئی قصور نہیں ہے، ساتھ ہی حکومت کا اس معاملے میں پرسکون رہ کر درخواست گزار کو اندھیرے میں رکھنا، اسے محفوظ اور سٹینڈرڈ سامان دستیاب نہ کرنا، ان تمام چیزوں کا دفاع نہیں کیا جا سکتا۔‘

ایچ اے ایل کے وکیل نے اس بارے میں کوئی بھی بیان دینے سے انکار کر دیا۔

راہل بیدی بتاتے ہیں، اب بھی 110 سے زیادہ مگ 21 طیاروں کے اپ گریڈ ورژن زیرِ استعمال ہیں اور ان میں بھی حادثات ہوئے ہیں۔

’حکومتیں روس سے کہتی رہی ہیں کہ ان طیاروں کے انجن میں تکنیکی مسائل ہیں لیکن روس یہ ماننے کو تیار نہیں ہے۔ وہ اس کے لیے خراب دیکھ بھال اور پائلٹ کو ذمہ دار ٹھہراتے ہیں۔ 2009 سے اب تک سات سخوئی جیٹ طیارے گر کر تباہ ہو چکے ہیں لیکن ان پر بھی کوئی ردعمل نہیں ہے۔‘

ونگ کمانڈر سجيت سنگھ دسمبر 1991 میں بھارتی فضائیہ میں شامل ہوئے۔ چار جنوری 2005 کو روز مرہ مشق کے دوران ٹیک آف کے صرف چند لمحوں بعد ہی اس میں آگ لگ گئی۔ طیارے کو موڑ کر واپس رن وے پر لانے کی کوشش کی لیکن پتہ چلا کہ ہوائی جہاز کا سارا نظام جل گیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

وہ کہتے ہیں، ’میں نے ایسی صورت میں لیے جانے والے تمام اقدامات کیے۔ میری کوشش تھی کہ نیچے موجود گاؤں نکل جائے، اس کے بعد میں ہوائی جہاز سے نکلوں۔ اگر ہوائی جہاز گاؤں پر گرتا تو کئی لوگ ہلاک ہو سکتے تھے۔‘

ونگ کمانڈر سجيت سنگھ کے طیارے سے نکلنے کے دو سیکنڈ بعد ہی جہاز کریش ہو گیا۔ وہ بال بال بچے۔ ان کی ریڑھ کی ہڈی میں چوٹ لگی اور 2007 میں انھیں بتایا گیا کہ وہ دوبارہ طیارہ نہیں اڑا پائیں گے۔

ان کے وکیل بھرت کمار کہتے ہیں، ’ہم چاہتے تھے کہ اس بارے میں گائیڈ لائن بنیں۔ آئندہ کوئی ایسا کام کرنے سے ڈرے اس لیے ہم نے معاوضے کا مطالبہ کیا۔‘

سجيت سنگھ کہتے ہیں ’مجھے امید ہے کہ آنے والی نسل کے لیے اعلیٰ کوالٹی کا سامان بنے۔ جس طرح میں نے تکلیف سہی، میں نہیں چاہتا کہ اگلی نسل تکلیف سہے۔‘

اب ونگ کمانڈر سجيت سنگھ ناسک میں سکول آف آرٹلری میں انسٹرکٹر ہیں اور فوجی افسروں کو ایئرفورس ٹیكٹک سکھاتے ہیں۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں