’اقتصادی راہداری کی کامیابی کا انحصار اس میں شامل ممالک کی سکیورٹی ذمہ داری پر‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

چین کے ایک اعلیٰ سکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ ملک کے اقتصادی خوشحالی کے لیے اقتصادی راہداری یا سلک روڑ کے پرعزم اقدام کا انحصار اس منصوبے میں شامل ممالک کی جانب سے مضبوط سکیورٹی کو یقینی بنانے پر ہے۔

چین میں رواں ماہ 14 اور 15 کو ون روڑ ون بیلٹ کے نام سے اقتصادی راہداری کے منصوبوں پر 28 ممالک کا اجلاس منعقد ہو رہا ہے۔

٭ سی پیک: گیم چینجر یا ہوائی قلعہ؟

اجلاس میں چینی صدر شی جنگ پنگ کے پسندیدہ مصنوبے کے تحت بنیادی ڈھانچے کی تعمیر پر اربوں ڈالر خرچ کر کے ایشیا، یورپ اور افریقہ کے درمیان تجارتی تعلقات کو وسعت دینے پر بات کی جائے گی۔

سلک روڑ کی سکیورٹی پر ہونے والے سیمینار میں میں بات کرتے ہوئے داخلی سکیورٹی کے سربراہ مینگ جیناژو نے کہا ہے کہ اس منصوبے پر اس وقت ہی پیش رفت ہو سکتی ہے جب محفوظ اور مستحکم ماحول ہو گا۔

برطانوی خبر رساں ایجنسی روئٹرز کے مطابق سکیورٹی سربراہ مینگ نے شرکا کو بتایا کہ 'بڑھتا ہوا عالمی تعاون، خطرات اور چیلنجز سے مشترکہ طور پر نمٹنا اور ون روڑ ون بیلٹ کی سکیورٹی تمام ممالک کی مشرکہ ذمہ داری ہے۔'

اس موقع پر پبلک سکیورٹی کے وزیر کؤ شنگچن نے کہا کہ عوام کی سکیورٹی، انسداد دہشت گردی اور بیرون ملک مفادات جیسے عوامل میں پہلے سے زیادہ عملی تعاون کی ضرورت ہے۔

انھوں نے کہا ہے کہ ہمیں امید ہے کہ تمام فریقین مشترکہ اور تعاون پر مبنی سکیورٹی کی سوچ کی سرپرستی کریں گی اور ون بیلٹ ون روڑ کے اقدام کی سکیورٹی تعاون کے لیے ایک مربوط طریقہ کار کا قیام عمل میں لائیں۔

ابھی تک یہ واضح نہیں کہ اس اجلاس میں کون کون سے ممالک شریک ہوں گے تاہم وزارتِ کی ویب سائٹ پر دی گئی تصاویر میں پاکستان، روس، ویتنام، ترکی، سپین، سعودی عرب، بیلاروس کے جھنڈے نظر آ رہے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

داخلی سکیورٹی کی وزارت کے مطابق وزیر کؤ شنگچن کو گذشتہ برس ملک کے طاقتور عہدے پر فائز کیا گیا۔

چین کے صدر شی جنگ پنگ نے چار برس پہلے عہدہ سنبھالنے کے بعد سے داخلی سکیورٹی کو زیادہ مضبوط بنانے کے حوالے سے اقدامات کیے ہیں جن میں ایک نئے سکیورٹی کمیشن کا قیام بھی شامل ہے۔

چین کے نئے سلک روٹ کے حوالے سے کئی ممالک کے حوالے سے خدشات جائز ہیں جس میں خاص کر پاکستان میں چینی کارکنوں پر شدت پسند متعدد بار حملے کر چکے ہیں۔ اس کے علاوہ وسطی ایشیا اور چین کے درمیان سلک روٹ کے اہم تجارتی راستے میں آنے والے صوبہ سنکیانگ میں اسلامی شدت پسند کے حوالے سے چین کو مشکلات کا سامنا ہے جہاں پر حالیہ برسوں ہونے والے سلسلہ وار حملوں میں سینکڑوں افراد مارے جا چکے ہیں۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں