چین کے پہلے مسافر بردار جہاز کی کامیاب پرواز

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption چین کے مسافر بردار جہاز نے تین ہزآر میٹر کی بلندی پر پرواز کی

چین میں مقامی طور پر بنائے گئے بڑے مسافر بردار طیارے نے اپنی پہلی پرواز کامیابی سے مکمل کر لی ہے اور اس طرح مسافر برادر طیاروں کی صنعت میں راج کرنے والی طیارہ ساز کمپنیوں بوئنگ اور ایئربس کے لیے پہلی مرتبہ مسابقت کی صورت حال پیدا ہو گئی ہے۔

چینی ساخت کا یہ مسافر بردار طیارہ جمعہ کو نوے منٹ کی تجرباتی پرواز مکمل کرنے کے بعد شنگھائی کے پڈونگ ہوائی اڈے پر بحفاظت اتر گیا۔

یہ طیارہ عالمی ایوی ایشن مارکیٹ میں اپنا حصہ حاصل کرنے کے چین کے پختہ عزم کی ایک علامت ہے۔

ملک کی سب سے جدید ترین کمپنی کومیک میں بنایا جانے والا یہ جہاز سنہ دو ہزار آٹھ سے تعمیر کے مختلف مراحل سے گزر رہا تھا لیکن اس کی تجرباتی پرواز کو کئی مرتبہ موخر کیا گیا۔

جمعہ کو پہلی پرواز پر اس جہاز میں عملے کے ارکان میں صرف پانچ پائلٹس اور انجینئر ہی سوار تھے جب کہ ہوائی اڈے پر ہزاروں کی تعداد میں سیاسی اقابرین، ملک کی ایوی ایشن صنعت سے وابستہ کارکن اور شائقین موجود تھے۔

پرواز سے قبل سرکاری ٹیلی ویژن سے نشر ہونے والی خبر میں کہا گیا کہ یہ طیارہ تین سو کلو میٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے تین ہزار میٹر کی بلندی پر پرواز کرے گا جب کہ عام حالات میں اس طرح کے طیارے دس ہزار میٹر کی بلندی تک پرواز کرتے ہیں۔

چینی ساخت کے سی نائن ون نائن کے اس جہاز کو بوئنگ سیون تھری سیون اور ایئر بس اے تین سو بیس کے مقابلے میں بنایا گیا ہے۔

اس جہاز کی تجرباتی پرواز کے پائلٹ چائی جون نے کہا کہ انھیں اس طیارے پر مکمل اعتماد ہے۔

انھوں نے کہا کہ پائلٹ کو پوری طرح علم ہوتا ہے کہ طیارے کی کیا حالت ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ 'پائلٹ اچھی طرح جانتا ہے کہ کیا یہ پرواز کر سکے گا یا نہیں اور مجھ اس بارے میں کوئی فکر نہیں ہے۔'

انھوں نے کہا کہ سنہ دو ہزار سولہ میں انھوں نے جہاز کا زمین پر دوڑانے کا تجربہ اس وقت روک دیا تھا جب جہاز کی بریکس میں انھیں نقص محسوس ہوا تھا۔

انھوں نے کہا 'یہ بالکل گاڑی چلانے کی طرح ہے۔ میں نے بریکس لگائیں اور جہاز تھرتھرانے لگا۔'

انھوں نے مزید کہا کہ اس کے بعد انھیں جہاز کے انجینئروں سے بریکس کا ڈیزائن بہتر کرانے کے لیے بحث کرنی پڑی۔

انھوں نے مزید کہا کہ انجینئروں کے لیے یہ ایک تخلیق ہے اور وہ اپنی تخلیق کو بالکل کامل سمجھتے ہیں لیکن پائلٹس کو اس کی خامیوں کی نشاندہی کرنی ہوتی ہے اور ان کی روشنی میں انھیں اسے بہتر بنانا ہوتا ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں