دہلی گینگ ریپ کے چار مجرموں کی سزائے موت برقرار

تصویر کے کاپی رائٹ DELHI POLICE
Image caption اشوک ٹھاکر، ونے شرما، پون گپتا اور مکیش کو 2013 میں عدالت نے سزائے موت سنائی تھی

انڈیا کی سپریم کورٹ نے دہلی میں ایک طالبہ کے ساتھ اجتماعی جنسی زیادتی کے چار مجرموں کو دی گئی سزائے موت کو برقرار رکھا ہے۔

اشوک ٹھاکر، ونے شرما، پون گپتا اور مکیش کو 2013 میں عدالت نے سزائے موت سنائی تھی۔

جسٹس آر بنومتی نے ان مجرموں کی اپیل مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ’ان افراد نے وحشیانہ جرم کیا ہے جس نے معاشرے کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔‘

یاد رہے کہ طالبہ کے ساتھ اجتماعی جنسی زیادتی کے بعد انڈیا بھر میں شدید احتجاج کیا گیا تھا اور اس کے نتیجے میں ریپ کے خلاف ایک نیا قانون بھی منظور کیا گیا تھا۔

خیال رہے کہ فزیو تھراپی کی طالبہ کو دسمبر 2012 میں اس وقت اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا جب وہ اپنے ایک دوست کے ہمراہ فلم دیکھنے کے بعد گھر لوٹنے کے لیے بس پر سوار ہوئیں۔ ان کے دوست کو بھی اس دوران مارا پیٹا گیا تھا۔

جوتی سنگھ جن کا نام ان کی والدہ کی جانب سے 2015 میں ظاہر کیا گیا تھا، 13 دن ہسپتال میں گزارنے کے بعد ہلاک ہو گئی تھیں۔

قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ سزائے موت پر عمل درآمد میں اب بھی کئی ماہ یا سال لگ سکتے ہیں۔

واضح رہے کہ ان چار مجرمان کی آخری امید اب صرف صدر کو بھیجی جانے والی رحم کی درخواست ہے۔

جوتی سنگھ پر حملے کے الزام میں چھ افراد کو حراست میں لیا گیا تھا۔ ان میں سے ایک مارچ 2013 میں جیل میں مردہ حالت میں پائے گئے تھے جن کے بارے میں خیال ظاہر کیا گیا تھا کہ انھوں نے شاید اپنی جان خود لی۔

جبکہ ایک اور ملزم کو جس کی عمر 17 سال تھی تین سال جیل میں گزارنے کے بعد کم عمری کی بنا پر 2015 میں رہا کر دیا گیا تھا۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں