اب ڈاکٹرز مارشل آرٹس سیکھیں گے

تصویر کے کاپی رائٹ Thinkstock

انڈیا کے سب سے مشہور سرکاری ہسپتال آل انڈیا انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز میں اب ڈاکٹر مارشل آرٹس کی بھی تربیت حاصل کریں گے۔

اگر آپ نے جیکی چن یا ان سے پہلے بروس لی کی فلمیں دیکھی ہوں، تو آپ خود اندازہ لگا سکتے ہیں کہ اس ٹریننگ کے بعد ہسپتالوں کا ماحول کیسا ہو جائے گا؟

'مجھے کیوں مار دیا میں تو زندہ اور صحیح سلامت ہوں'

ڈاکٹروں کو واضح نسخے لکھنے کی ہدایت

آپریشن تھیئٹر میں ڈاکٹر ادھر سے ادھر چھلانگیں مارتے پھریں گے، ایک ہاتھ سے سرجری کریں گے اور دوسرے ہاتھ سے چاؤ مِن کھائیں گے اور اسی دوران اگر کسی مریض یا تیماردار نے زیادہ بات کی تو بس اس کی خیر نہیں، ہوا میں گھوم کر ایک 'ریورس کک' ماری اور ہوش ٹھکانے۔

ہاں اگر زیادہ زور سے بھی لگ جائے، ڈاکٹر زیادہ طاقتور ہو یا مریض زیادہ بیمار، تو فکر کی کوئی بات نہیں کیونکہ آپ ملک کے سب سے بہترین ہسپتال میں جو ہیں۔ آل انڈیا انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز کے 'ٹراما سینٹر' کی مثال پورے ملک میں دی جاتی ہے، اس لیے آپ بھی گھبرائیے گا مت!

ڈاکٹر مارشل آرٹس ضرور سیکھیں لیکن ایک بار ٹھنڈے دماغ سے یہ ضرور سوچیں کہ مریضوں یا ان کے رشتے داروں کو پیٹتے ہوئے وہ کیسے لگیں گے؟ دوائی ٹھیک سے نہیں کھائی، ڈشوم! خوراک پوری نہیں لی، رات کو وقت پہ نہیں سوئے، یہ لو ایک اور ڈاکٹروں کا تحفظ بھی ضروری ہے لیکن مارشل آرٹس کا استعمال شاید اس کا بہترین طریقہ نہیں۔

پھر تصویر کا دوسرا پہلو بھی ہے۔ ملک بھر سے مریض آل انڈیا انسٹی ٹیوٹ میں علاج کے لیے آتے ہیں، زیادہ تر اس حالت میں کہ جب کہیں اور کوئی امید باقی نہ رہی ہو۔ اگر وہ بھی سفر پر نکلنے سے پہلے مارشل آرٹس کی تربیت لینے لگے تو کیا ہوگا؟

بھائی، آل انڈیا جانا ہے علاج کے لیے، یہ مارشل آرٹس تو اپنی سمجھ میں آتی نہیں، کوئی اچھا سا اکھاڑہ تو بتاؤ جہاں جاکر دو چار داؤ پینچ سیکھ لیں دھوبی پچھاڑ وغیرہ، یا بس عامر خان کی فلم دنگل دیکھ کر بھی کام چل جائے گا؟ سنا ہے کہ آج کل ڈاکٹر جب نبض بھی پکڑتے ہیں تو آسانی سے چھوڑتے نہیں، بس اپنی 'گرپ' ٹیسٹ کرتے رہتے ہیں، اس لیے پوری تیاری کے ساتھ جانا ہی ٹھیک ہے، بیماری سے مر گئے تو کوئی فکر نہیں لیکن بچ گئے تو عزت کے ساتھ واپس تو لوٹ آئیں گے!

لیکن آج کل کہاں کیا ہو جائے، کہنا مشکل ہے۔ حکومت گائیوں کو ادھار کارڈ جاری کرنے کی تیار کر رہی ہے، ہر گائے کا ایک الگ انفرادی نمبر ہوگا اور ان کی اپنی الگ شناخت ہوگی اور اتر پردیش میں ان کے لیے الگ ایمبولنس سروس شروع کی گئی ہے۔

گائیں تو ظاہر ہے کہ خوش ہیں، ان کی زندگی تو بن گئی، ان کے لیے جگہ جگہ 'اولڈ ایج ہوم' قائم کیے جا رہے ہیں۔

کسی نے ایک کارٹون بنایا تھا جس میں ایک گائے اپنی کسی دوست یا رشتے دار سے کہہ رہی ہے 'بس بڑھاپے کے لیے پینشن کا انتظام اور ہو جاتا تو کوئی فکر باقی نہ رہتی۔'

لیکن جو گائے نہیں ہیں، ان میں سے کچھ لوگ خوش نہیں ہیں۔ سوشل میڈیا پر کسی نے لکھا کہ گائیوں کا تحفظ ضروری ہے لیکن اس کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ اب انھیں اپنی حفاظت کے لیے ہتھیاروں کے لائسنس جاری کر دیے جائیں۔

جہاں تک ڈاکٹروں کے مارشل آرٹس سیکھنے کا سوال ہے، ممکن ہو تو اپنی صحت کا خود ہی خیال رکھیے گا، پِٹ کر ٹھیک ہوئے، تو یہ زخم تمام زندگی ہرا رہے گا۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں