شدید لڑائی کے بعد طالبان کا قندوز شہر کے ضلع قلعہ ذال پر قبضہ

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption طالبان کے ترجمان نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ کئی افغان پولیس فورسز اور فوجی جھڑپوں میں ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں

افغانستان کے شہر قندوز کے حکام کا کہنا ہے کہ طالبان نے سنیچر کے روز شہر سے کچھ فاصلے پر واقع ضلع پر قبضہ کر لیا ہے۔

مشرقی افغانستان میں واقع قندوز کی پولیس کے ترجمان محفوظ اکبری کا کہنا ہے کہ قندوز شہر کے مغرب میں واقع قلعہ ذال سے افغان سکیورٹی فورسز نکل آئی ہے۔

افغان طالبان کا ’آپریشن منصوری‘ کے آغاز کا اعلان

قندوز میں آپریشن، نیٹو بمباری سے 30 عام شہری ہلاک

انھوں نے کہا کہ سکیورٹی فورسز نے ایسا قلعہ ذال میں 24 گھنٹوں کی شدید لڑائی کے بعد شہریوں اور فوجی جانوں کو بچانے کے لیے کیا ہے۔

طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے ایک بیان میں کہا ہے کہ گروپ نے پولیس ہیڈ کوارٹر، گورنر کے کمپاؤنڈ، اور ضلع میں تمام سکیورٹی چوکیوں پر قبضہ کر لیا ہے۔

ترجمان نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ کئی افغان پولیس فورسز اور فوجی جھڑپوں میں ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں۔

یاد رہے کہ طالبان عسکریت پسندوں نے گذشتہ 18 ماہ کے دوران دو مرتبہ مختصر مدت کے لیے قندوز کے مرکز پر قبضہ کیا تھا۔

طالبان نے گذشتہ ہفتے موسمِ بہار کی کارروائیوں کے آغاز کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ اپنے حملوں میں غیرملکی افواج اور ان کے حامیوں کو نشانہ بنائیں گے۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA

طالبان کی جانب سے ان کارروائیوں کو گذشتہ برس امریکی ڈرون حملے میں مارے جانے والے طالبان رہنما ملا منصوری کی نسبت سے 'آپریشن منصوری' کا نام دیا گیا ہے۔

واضع رہے کہ آپریشن منصوری سے ایک ہفتہ قبل ہی مزارِ شریف میں ان کی ایک کارروائی میں افغان فوج کو بھاری جانی نقصان اٹھانا پڑا ہے۔

مزارِ شریف کے قریب واقع فوجی اڈے پر طالبان کے حملے میں 140 سے زیادہ افغان فوجی ہلاک ہوئے تھے۔

افعان فوجی ترجمان نے بتایا تھا کہ طالبان جنگجو فوجی وردی پہن کر اڈے میں داخل ہوئے اور پھر انھوں نے حملہ کر دیا۔

حکام کا کہنا تھا کہ حملے کے بعد کئی گھنٹوں تک جاری رہنے والی لڑائی میں دس طالبان جنگجو بھی مارے گئے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں