افغانستان میں ’دولتِ اسلامیہ کا سربراہ ہلاک‘: اشرف غنی

افغان فورسز تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption حالیہ عرصے میں امریکی فوسرز کی مدد سے افغان فوج نے دولتِ اسلامیہ کے حلاف بہت سی کارروائیاں کی ہیں۔

افغان صدر اشرف غنی کے دفتر سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ کے افغانستان میں سربراہ عبد الحسیب ہلاک ہو گئے ہیں۔

حکام کا کہنا ہے کہ دولتِ اسلامیہ کے سربراہ کی ہلاکت 10 روز قبل افغانستان کے صوبہ ننگرہار میں ہونے والے سپیشل فورسز کے ایک آپریشن کے دوران ہوئی۔

٭افغانستان اور پاکستان میں دولتِ اسلامیہ کتنی طاقتور ہے؟

٭’داعش، ازبک اور پاکستانی طالبان کا غیر رسمی اتحاد‘

یہ خیال کیا جاتا ہے کہ مارچ میں کابل کے ملٹری ہسپتال میں ہونے والے حملے کے پیچھے دولتِ اسلامیہ کے سربراہ ہی تھے۔

گذشتہ ماہ پینٹاگون سے جاری بیان میں کہا گیا تھا کہ ممکنہ طور پر عبد الحسیب کی ہلاکت امریکی اور افغان سپیشل فورسز کے حملے میں ہو چکی ہے۔

اپریل میں امریکی فوج نے ننگرہار میں ہی ایک محلے میں دنیا کا سب سے بڑا غیر جوہری بم استعمال کیا تھا۔

دولتِ اسلامیہ نے 2015 میں خراسان صوبے کی تنظیمی شاخ کا اعلان کیا تھا اور کہا تھا کہ تنظیم افغانستان اور پاکستان میں منتقل ہو رہی ہے۔ تب سے لے کر اب تک اس تنظیم نے متعدد حملوں کی ذمہ داری قبول کی ہے۔

جن حملوں کی ذمہ داری دولتِ اسلامیہ نے قبول کی ہے ان میں ایک جولائی سنہ 2016 میں کابل میں ہوا جس میں 80 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ اس کے تین ماہ بعد اسی طرح کے دو مزید حملے ہوئے۔ 2016 میں عاشورہ کے موقع پر ہونے والے حملے میں 30 جبکہ نومبر 2016 میں کابل کی ایک مسجد پر حملے میں 30 افراد ہلاک ہوئے۔

اسی بارے میں