’ہم ناراض نوجوانوں سے بات کریں گے‘

محبوبہ مفتی تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption محبوبہ مفتی مذاکرات چاہتی ہیں لیکن اس کے لیے انڈیا کی عدالت عظمی یا پھر ان کی حلیف جماعت تیار نظر نہیں آتی

انڈیا کے زیر انتظام کشمیر کی وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی نے کہا ہے کہ ان کی حکومت ناراض اور مایوس نوجوانوں سے بات چیت کرنے کے امکانات تلاش کر رہی ہے۔

یہ بات انھوں نے پیر کے روز سرینگر میں نئی سرینگر اسمبلی سیکریٹیریٹ کا افتتاح کرتے ہوئے کی۔

انھوں نے کہا: ’ایک مسئلہ ہے جو ہمارے اقتدار میں آنے سے پہلے سے ہی موجود تھا، لیکن سبھی مسائل کا حل ہوتا ہے۔‘

کشمیر کو انڈیا کا تاج قرار دیتے ہوئے انھوں نے ہندوستانی ٹی وی چینلز سے اپیل کی کہ کشمیر سے متعلق ٹی وی پر متنازع مباحثوں کا اہتمام نہ کریں کیونکہ ان مباحثوں کا اثر براہ راست کشمیر کے حالات پر پڑتا ہے۔

٭ 'بات چیت کے بغیر مسئلہ کشمیر کا حل ممکن نہیں'

٭ ’کشمیر کے پاس دو راستے، سیاحت یا دہشتگردی‘

واضح رہے کہ جموں و کشمیر برصغیر کی واحد ریاست ہے جہاں حکومت کا مرکز اکتوبر سے اپریل کے آخر تک، سردیوں کے چھ ماہ کے دوران جموں میں ہوتا ہے جبکہ مئی میں بہار کی آمد پر حکومتی مرکز سرینگر منتقل کیا جاتا ہے۔

دارالحکومت کی منتقلی کا یہ عمل مطلق العنان ڈوگرہ شاہی نے 1870 کے آس پاس شروع کیا تھا۔ اس کا مقصد حکومتی نظام کو موسمِ سرما میں مفلوج ہونے سے بچانا تھا۔ ڈوگرہ حکومت کا خاتمہ تو تقسیم ہند کے ساتھ ہی ہوگیا لیکن 'دربار کی منتقلی' یا دربا مُو کی روایت تقریباً ڈیڑھ صدی سے برقرار ہے۔ جموں سے سرینگر یا سرینگر سے جموں منقتلی پر اربوں روپے کا سرکاری سرمایہ صرف ہوتا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption کشمیر کے شہر سرینگر میں سکیورٹی میں اضافہ کیا گیا ہے

اس بار دربار کی منتقلی سے پہلے ہی سیکریٹیریٹ کے گردونواح میں سکیورٹی کو سخت کردیا گیا ہے۔

57 سالہ محبوبہ مفتی نے گذشتہ برس اپریل میں ہند و قوم پرست جماعت بی جے پی کے ساتھ اتحاد کا معاہدہ کر کے وزیراعلیٰ کا حلف لیا تھا۔ تاہم محبوبہ کے اقتدار کے 13 ماہ مسلسل کشیدگی، ہلاکتوں، کرفیو، ہڑتالوں، قدغنوں اور سیاسی تنازعات سے عبارت رہے ہیں۔

پیر کے روز جب محبوبہ مفتی روایتی پریڈ کی سلامی کا جائزہ لے رہی تھیں تو جنوبی قصبہ ترال میں طلبا و طالبات نے ہند مخالف مظاہرے کیے جہاں کئی مظاہرین کو گرفتار کیا گیا ہے۔ گذشتہ ایک ماہ سے وادی کے سبھی تعلیمی اداروں میں کشیدگی ہے کیونکہ 15 اپریل کو ایک کالج پر فورسز کے چھاپے، توڑ پھوڑ اور زیادتیوں کے خلاف طلبہ میں بے چینی پھیل گئی ہے۔ بیشر تعلیمی اداروں میں مظاہروں کے خدشے سے تعطیل کا اعلان کردیا گیا ہے۔

افتتاح کرتے ہوئے محبوبہ نے کہا: 'کئی نوجوان مایوس ہیں لیکن بہت ذہین ہیں۔ حکومت ان سے بات کرے گی۔'

حالات کو معمول پر لانے کے لیے وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی دلی سے مسلسل مطالبہ کرتی رہی ہیں کہ وہ علیحدگی پسندوں کے ساتھ مذاکرات کرے، تاہم سپریم کورٹ سے لے کر بی جے پی صدر امیت شاہ تک سب نے ایسے کسی بھی امکان کو مسترد کردیا ہے۔

تازہ بیان میں محبوبہ نے کہا: 'نریندر مودی جی کو تاریخی منڈیٹ ملا ہے۔ وہ مضبوط وزیراعظم ہیں۔ کشمیر مسئلے کا حل صرف وہ کرسکتے ہیں۔ وہ جو بھی فیصلہ کریں گے ملک کو اسے ماننا پڑے گا۔'

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں