حامد کرزئی دورۂ پاکستان کے لیے تیار، عبداللہ عبداللہ متذبذب

افغان تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption سابق افغان صدر حامد کرزئی نے کہا ہے کہ انھوں نے پاکستانی وزیر اعظم نواز شریف کی جانب سے دورہ اسلام آباد کی دعوت قبول کر لی ہے

افغانستان کے سابق صدر حامد کرزئی کا کہنا ہے کہ انہوں نے پاکستانی وزیر اعظم نواز شریف کی جانب سے دورہ اسلام آباد کی دعوت قبول کر لی ہے اور وہ ماہ رمضان کے بعد یہ دورہ کریں گے۔

ادھر افغان حکومت کے چیف ایگزیکیٹو عبداللہ عبداللہ نے کہا ہے کہ وہ پاکستان کا دورہ 'حالات بہتر ہونے کے بعد کریں گے۔'

یہ بات دونوں افغان رہنماؤں نے پاکستان سے آئے ہوئے صحافیوں کے ایک گروپ سے پیر کو الگ الگ گفتگو میں کہی۔

حامد کرزئی نے کہا کہ انھوں نے دعوت منظور کرتے ہوئے وزیر اعظم کو ایک جوابی خط بھی لکھا ہے جسے انہوں نے 'نجی' قرار دیتے ہوئے صحافیوں کو دینے سے انکار کیا۔

سرحد پر کشیدگی کا ذمہ دار کون؟

افغانستان کی 50 اہلکاروں کی ہلاکت کے پاکستانی دعوے کی تردید

پاکستان اور افغانستان کے درمیان حالیہ تلخیوں اور تعلقات میں سرد مہری کو دیکھتے ہوئے اس اعلان کو ایک مثبت پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

حامد کرزئی کا کہنا تھا کہ انھیں گزشتہ چند برسوں میں پاکستان دورے کی چار دعوتیں موصول ہو چکی تھیں لیکن اب انھوں نے وہاں جانے کا فیصلہ کیا ہے۔ تاہم انھوں نے یہ نہیں بتایا کہ اس وقت جانے کا فیصلہ کیوں کیا۔

حامد کرزئی کو ان کی صدارت کے آخری ایام میں پاکستان میں شدید نکتہ چینی کا سامنا رہا تھا اور ان پر انڈیا نواز ہونے کا الزام عائد کیا جاتا رہا ہے۔ان کے دورے کی دوبارہ دعوت اور اس کی منظوری سے لگتا ہے کہ دونوں حکومتیں شاید اب ان کے ذریعے تعلقات کی بہتری کی ایک کوشش کرنا چاہتے ہیں۔

ایک سوال کے جواب میں کہ ماضی میں تو ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے بیس دوروں سے کوئی فائدہ نہیں ہوا تو اس مرتبہ ایک بار پھر وہ کیوں جانا چاہ رہے ہیں تو ان کا کہنا تھا کہ 'امید کی وجہ سے۔ اگر مجھے اس امید کے نتیجے میں سو سال بھی پاکستان جانا پڑے تو میں جاتا رہوں گا۔ اسے تمام زندگی نہیں چھوڑوں گا۔'

ان کا کہنا تھا کہ وہ پاکستان کو ایک مکمل ساتھی کے طور پر ساتھ لے کر چلنا چاہتے ہیں۔

'یہ میری خوش قسمتی ہوگی اگر میں دونوں ممالک کے درمیان 'پیس میکر' کا کردار ادا کرسکوں۔ میرے لیے اس سے بڑی بات کوئی اور نہیں ہوگی۔ لیکن تالی بجانے کے لیے یاد رہے کہ دو ہاتھ چاہیے ہوتے ہیں۔'

Image caption افغان حکومت کے چیف ایگزیکیٹو عبداللہ عبداللہ پاکستان سے آئے ہوئے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے

دوسری جانب چیف ایگزیکٹو عبداللہ عبداللہ نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ان کی حکومت پاکستانی طالبان کو دہشت گرد اور دشمن قرار دے چکی ہے۔

'ہمارے سپاہیوں نے ان کے خلاف لڑتے ہوئے قربانیاں دی ہیں۔ہم ٹی ٹی پی، القاعدہ یا داعش میں کوئی فرق نہیں کرتے ہیں۔ ہم یا امریکیوں نے ان کے خلاف کارروائیاں کی ہیں۔'

البتہ عبداللہ عبداللہ نے پاکستان کے دورے کی بارے میں کوئی واضح تاریخ یا اعلان کرنے سے احتراز کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ جب حالات بہتر ہوں گے تو وہ جائیں گے۔ انھوں نے واضح کیا کہ ان کی حکومت پاکستان کو اپنا دشمن نہیں سمجھتی ہے لیکن پاکستان کو طالبان کو مذاکرات کی میز پر لانے کی بجائے ان کے خلاف ویسی ہی کارروائی کرنی چاہیے جیسی کہ وہ کر رہے ہیں۔

عبداللہ عبداللہ نے کہا کہ ایرانی وزیر خارجہ بھی گزشتہ روز کابل میں تھے اور انہوں نے بھی طالبان کے ساتھ روابط تسلیم کیے ہیں لیکن وہ کہتے ہیں کہ یہ رابطے افغان حکومت اور عوام کے فائدے کے لیے استعمال کرنا چاہتے ہیں۔

انھوں نے پاکستان کے سابق فوجی سربراہ جنرل راحیل شریف کے ایک وعدے کا ذکر کرتے ہوئے کہاں کہ انھوں نے ایک ماہ کا وقت مانگا تھا یہ جاننے کے لیے کہ کون سے طالبان مصالحت کے لیے تیار ہیں اور کون نہیں لیکن کہا کہ اس کے بعد کچھ نہیں ہوا۔

عبداللہ عبداللہ نے تسلیم کیا کہ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات اس وقت کافی بری سطح پر ہیں۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں