انصاف چاہتی ہوں کسی سے انتقام نہیں: بلقیس بانو

بلقیس بانو تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ممبئی ہائی کورٹ کی جانب سے ملزموں کو سزا سنائے جانے کے بعد بلقیس بانو نے پریس کانفرنس کی

گجرات کے فسادات کے دوران اجتماعی ریپ کا شکار ہونے والی بلقیس بانو نے کہا ہے کہ عدالت سے انھیں انصاف ملا ہے اور اس سے ملک کے نظامِ انصاف پر ان کا یقین پختہ ہوا ہے۔

ممبئی ہائی کورٹ کی جانب سے بلقیس بانو کے ریپ اور ان کی بیٹی سمیت 14 رشتے داروں کے قتل کے مقدمے میں 11 ملزموں کو عمر قید کی سزا دیے جانے کے بعد دلی میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بلقیس بانو نے کہا کہ ’میں انصاف چاہتی ہوں کسی سے انتقام نہیں۔‘

نامہ نگار شکیل اختر کے مطابق گذشتہ 15 برسوں کی مشکلات کا ذکر کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ملزموں کے بار بار پیرول پر رہا ہونے کے باعث وہ ہمیشہ خوف و ہراس کے سائے میں رہیں اور متعدد بار انھیں اپنی رہائش تبدیل کرنا پڑی۔

مستقبل کے بارے میں بلقیس بانو کا کہنا تھا کہ 'میں ایک ایسے ہندوستان کی تمنّا کرتی ہوں جہاں میری بچی بے خوف و خطر پرامن ماحول میں پڑھ لکھ کر کامیاب انسان بن سکے۔'

گجرات فسادات سے متعلق یہ پہلا ایسا اہم کیس تھا جس میں عدالت نے بعض پولیس اہلکاروں کو بھی ثبوتوں کو دانستہ طور پر ضائع کرنے اور مجرموں کے جرم کو چھپانے کی پاداش میں قید کی سزا سنائی ہے۔

حقوق انسانی کے کارکنوں اور خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیموں نے ممبئی ہائی کورٹ کے فیصلے کا خیرمقدم کیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption گذشتہ 15 برسوں کے مصائب کا ذکر کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ملزموں کے بار بار پیرول پر رہا ہونے کے باعث وہ ہمیشہ خوف و ہراس کے سائے میں رہیں

سپریم کورٹ کی سرکردہ وکیل اندرا جے سنگھ نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ بلقیس بانو کے مقدمے میں مجرموں کو اس لیے سزا ملی کیونکہ یہ مقدمہ سپریم کورٹ کی نگرانی میں چلا اور اس کی سماعت گجرات کے باہر ہوئی۔

اندرا جے سنگھ کا کہنا تھا کہ 'ممبئی ہائی کورٹ نے مجرموں کو جو سخت سزائیں دی ہیں وہ یقیناً مستقبل میں خواتین کے خلاف اس طرح کے سنگین جرائم روکنے میں مددگار ثابت ہوں گی۔'

گجرات فسادات کے دوران بلقیس بانو کے گاؤں والوں نے ہی ان کے گھر کا محاصرہ کر لیا تھا اور بلقیس اور کئی دیگر خواتین کے اجتماعی ریپ کے بعد 14 افراد کو قتل کر دیا تھا جن میں بلقیس کی دو سالہ بچی اور ایک کزن کی دو روز کی نومولود بچی بھی شامل تھی۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں