’ڈاکٹر‘ عظمیٰ کون ہیں؟

عظمیٰ تصویر کے کاپی رائٹ TAHIR ALI
Image caption ڈاکٹر عظمیٰ نے اپنے شوہر کے ساتھ جانے سے انکار کر دیا تھا اور کہا تھا کہ ان کی شادی زبردستی کی گئی تھی

اسلام آباد میں انڈیا کے ہائی کمیشن میں پناہ لینے والی ’ڈاکٹر‘ عظمیٰ اگر واقعی ڈاکٹر ہیں تو دہلی میں ان کے جاننے والوں کو اس کی خبر نہیں، لیکن ان کا یہ دعویٰ ضرور ہے کہ عظمیٰ کی پہلے بھی ایک مرتبہ شادی ہو چکی ہے اور ان کی ایک چھوٹی بچی بھی ہے۔

عظمی یکم مئی کو واہگہ کے راستے پاکستان گئی تھیں جہاں طاہر علی نام کے ایک شخص سے ان کی شادی ہوئی لیکن ان کا الزام ہے کہ یہ شادی ان کی مرضی کے خلاف کرائی گئی تھی۔ ان کے شوہر اس الزام سے انکار کرتے ہیں۔

٭ ’میرے ساتھ زبردستی ہوئی ہے، واپس نہیں جاؤں گی‘

عظمیٰ نے اب اسلام آباد میں انڈیا کے ہائی کمیشن میں پناہ لے رکھی ہے اور وہ انڈیا واپس آنا چاہتی ہیں۔ ہائی کمیشن پاکستانی دفتر خارجہ سے رابطے میں ہے۔ عظمیٰ کا الزام ہے انھیں شادی کے بعد معلوم ہوا کہ طاہر شادی شدہ ہیں اور اور چار بچوں کے باپ ہیں۔ انھوں نے اس سلسلے میں ایک مقدمہ بھی درج کرایا ہے۔

دونوں کی ملاقات ملائشیا میں ہوئی تھی جہاں طاہر ٹیکسی چلاتے تھے۔

پاکستان کا ویزا حاصل کرنے کے لیے انھوں نے جو پتہ فراہم کیا تھا اسے تلاش کرنے کی تمام تر کوششیں ناکام ثابت ہوئیں۔ یہ ایک انتہائی گنجان علاقہ ہے۔

لیکن ویزا فارم میں درج ان کے موبائل نمبر سے کچھ سراغ ضرور ملے۔ یہ نمبر تو اگرچہ بند ہے لیکن گوگل سرچ سے معلوم ہوا کہ کچھ عرصہ پہلے تک وہ دہلی کے یمنا وہار علاقے میں ایک بوتیک چلاتی تھیں، وہاں آس پڑوس کے لوگ انھیں اچھی طرح جانتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Muhammad Tahir
Image caption ڈاکٹر عظمی اور محمد طاہر نے 3 مئی کو صوبہ خیبر پختون خوا کے شہر بونیر میں شادی کی

ان میں سے ایک خاتون نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ عظمیٰ اکثر ان کے گھر آیا کرتی تھیں کیونکہ دونوں کی دکانیں آمنے سامنے تھیں۔

ان کا دعویٰ ہے کہ عظمیٰ کی پہلے بھی شادی ہوچکی ہے اور ان کی ایک چار پانچ سال کی بچی بھی ہے جس کے نام پر انھوں نے بوتیک کھولا تھا لیکن یہ شادی ختم ہو گئی۔ پھر بوتیک بند کر کے وہ ملائشیا چلی گئی تھیں لیکن بظاہر اس خاتون سے رابطے میں تھیں۔

انھوں نے کہا: ’میں نے سات آٹھ دن پہلے انھیں فون کیا تھا لیکن ان کا نمبر بند آ رہا تھا۔ میں اکثر عظمیٰ سے کہتی تھی کہ تو شادی کر لے اور وہ ہمیشہ یہ جواب دیتی تھی کہ کوئی ٹھیک سا شخص ملے گا تو کر لوں گی۔۔۔ اس نے مجھے بتایا تھا کہ ملائشیا میں اسے کوئی پاکستانی لڑکا ملا ہے لیکن یہ ذکر نہیں کیا کہ وہ اس سے شادی کرنے والی ہے، وہ چاہتی تھی کہ لڑکا اس کی بیٹی کو بھی اپنائے۔‘

ایک اور پڑوسی کا کہنا تھا کہ عظمیٰ کے والدین کبھی نظر نہیں آتے تھے، بس ایک دادی تھیں جو قریب ہی واقع چوہان بانگر علاقے میں رہتی تھیں، اور اکثر ان کے بوتیک پر آیا کرتی تھیں۔ عظمیٰ نے اپنے ویزا فارم میں چوہان بانگر کا ہی پتہ دیا تھا۔

دونوں نے ہی اس بات سے لاعلمی ظاہر کی کہ عظمیٰ ڈاکٹر ہیں۔ اپنے ویزا فارم میں عظمیٰ نے لکھا ہے کہ وہ اپنی بیمار آنٹی سے ملنے کے لیے پاکستان جانا چاہتی ہیں لیکن شادی سے پہلے بظاہر وہاں ان کی کوئی رشتے داری نہیں تھی۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں