بنگلہ دیش میں احمدی عالم دین پر عبادت گاہ میں حملہ

تصویر کے کاپی رائٹ AP

بنگلہ دیش میں احمدی برادری کے عالم دین مستفیظ الرحمٰن ایک حملے میں زخمی ہو گئے ہیں۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی نے پولیس کے حوالے سے بتایا ہے کہ تین افراد بنگلہ دیش کے شمال میں واقع ایک دور افتادہ گاؤں خان پور کی ایک عبادت گاہ میں داخل ہوئے اور عالم دین مستفیظ الرحمن کو چاقو کے وار کر کے زخمی کر دیا۔

٭بنگلہ دیش: جماعت المجاہدین کے سینیئر رہنما کو پھانسی دے دی گئی

٭شدت پسندی کے خلاف بنگلہ دیش کی جنگ

ڈسٹرکٹ پولیس کے سربراہ سید نور السلام نے اے ایف پی کو بتایا کہ 'عالم دین کو کم ازکم تین بار ان کی گردن اور پشت پر وار کر کے زخمی کیا گیا، ان کی گردن پر گہرا زخم ہے۔'

زخمی امام کی عمر 32 سال ہے اور وہ تشویشناک حالت میں دارالحکومت ڈھاکہ کے ہسپتال میں زیرِ علاج ہیں۔

گاؤں کے لوگوں نے تین میں سے ایک حملہ آور کو پکڑا اور اسے زدوکوب بھی کیا۔ تاہم پولیس کا کہنا ہے کہ یہ ابھی واضح نہیں کہ حملہ آوروں کا تعلق بنگلہ دیش میں حملے کرنے والے اسلامی شدت پسند گروہ سے ہے یا نہیں۔

گذشتہ برس مبینہ طور پر ایک اسلامی شدت پسند گروہ نے شمال مغربی بنگلہ دیش کے گاؤں بگمارا کی ایک احمدیوں کی عبادت گاہ میں حملہ کیا تھا اور تین افراد کو زخمی کر دیا تھا۔

اس وقت دولتِ اسلامیہ کے گروہ نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی تھی۔ لیکن بنگلہ دیشی حکام نے اس دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ حملہ بنگلہ دیش کے مقامی جنگجو گروہ جمیعت المجاہدین نے کیا ہے۔ یہ گروہ مذہی اقلیتوں جن میں ہندو، مسیح، صوفی مسلمان اور شیعہ شامل ہیں کو نشانہ بناتا ہے۔

اس واقعے کے بعد پولیس نے خان پور میں سکیورٹی بڑھا دی ہے جہاں ایک درجن کے قریب احمدی خاندان مقیم ہیں۔

جماعت احمدیہ بنگلہ دیش کے ترجمان احمد تبشیر چوہدری نے اے ایف پی سے گفتگو میں کہا کہ انھیں حالیہ مہینوں میں اس وقت مقامی مسلمانوں کی جانب سے احتجاج کا سامنا کیا جب علاقے میں احمدی برادری نے اپنی عبادت گاہ بنائی۔

اطلاعات کے مطابق بنگلہ دیش میں احمدی کمیونٹی کے افراد کی تعداد ایک لاکھ کے قریب ہے۔ ماضی میں بھی ان خاندانوں کو حملوں کا سامنا کرنا پڑا اور اکثر اوقات عبادت گاہوں کی تعمیر سے روکا گیا۔

احمدی کمیونٹی پر بدترین حملہ کھلنا میں اکتوبر 1999 میں ہوا تھا جب ان کی ایک عبادت گاہ کو بم حملے میں نشانہ بنایا گیا اور کم ازکم 7 احمدی نمازی ہلاک ہوئے۔

بعد ازاں پولیس نے حرکت الجہاد السلامی پر اس حملے کی ذمہ داری عائد کی تھی۔ اس گروہ کے سربراہ مفتی عبدالہنان اور ان کے دو ساتھیوں کو گذشتہ ماہ ہی برطانوی سفیر پر سنہ 2004 میں بم حملہ کرنے کے جرم میں پھانسی کی سزا ملی تھی۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں