ماں کا پیار، لاہور کی آخری ملکہ کی کہانی

جند کور تصویر کے کاپی رائٹ Peter Bance Collection
Image caption جند کور لاہور کی آخری ملکہ تھیں

سکھ سلطنت کے بانی مہاراجہ رنجیت سنگھ کی حسین و جمیل بیوی مہارانی جند کور کو 'باغی ملکہ،' 'دا مسالینا آف پنجاب' اور 'دا کوین مدر‘ جیسے خطابات سے یاد کیا جاتا ہے۔

'انھیں رانی جنداں' بھی کہا جاتا ہے۔ وہ سکھوں کے دورِ حکومت میں لاہور کی آخری ملکہ تھیں۔

کتوں کے رکھوالے کی بیٹی سے شمالی ہندوستان کی سب سے زیادہ طاقتور مہارانی بننے والی جند کور کے عروج کی کہانی انڈیا کی لوک داستانوں کا حصہ بن چکی ہے۔

تاریخ دانوں نے جند کور کو 'باہمت خاتون' قرار دیا ہے جو 1846 میں سکھوں اور انگریزوں کے درمیان پہلی جنگ میں سکھوں کی شکست کے بعد برطانوی قید سے ایک نوکرانی کا روپ دھار کر فرار ہو گئی تھیں۔

جند کور نے فرار ہونے کے بعد بالآخر نیپال میں پناہ لی جو اس وقت برطانوی سلطنت کے زیرِ اثر نہیں تھا۔ تاہم وہ اپنے نو سالہ بیٹے دلیپ سنگھ کو ساتھ نہیں لا سکیں، جو انگریزوں کے ہاتھ آ گئے۔ انھوں نے دلیپ سنگھ کو انگلستان بھیج دیا گیا جہاں وہ مسیحی ہو گئے اور 'بلیک پرنس' کے نام سے مشہور ہوئے۔

مشہور دستاویزی فلم ساز مائیکل سنگھ نے مہارانی جنداں پر 'باغی ملکہ' کے نام سے فلم بنائی ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ جند کور نے اپنے بیٹے کے تحفظ کے لیے جو کچھ ممکن تھا وہ کیا۔

مائیکل سنگھ کے مطابق مہاراجہ رنجیب سنگھ کی موت کے بعد کے خونریز واقعات کے بعد ان کے تخت کے وارث دلیپ سنگھ کو وہاں سے فرار کروانے میں مہارانی جنداں نے اہم کردار ادا کیا۔

'مہارانی جنداں نے اپنے بیٹے دلیپ سنگھ کو نہ صرف زندہ رکھنے بلکہ پنجاب کے سرکاری تخت کے حصول کے لیے ایک شیرنی کی طرح لڑائی کی۔'

تصویر کے کاپی رائٹ British Library
Image caption باغی ملکہ 13 برس کے وقفے کے بعد 1861 میں اپنے بیٹے سے ملیں

محبت بھرے خطوط

برٹش لائبریری میں مہارانی جنداں اور دلیپ سنگھ کے درمیان لکھے جانے والے دو خط موجود ہیں جو دل کو چھو لیتے ہیں۔

پہلا خط مہاراجہ دلیپ سنگھ نے لکھا ہے جس میں وہ اپنے ماں جند کور کو 'بی بی جی' کہہ کر مخاطب کرتے ہیں۔

پہلا خط

بی بی جی

میں نے آج اس مختار نامے کی نقل دیکھی ہے جو آپ نے گورنر موہن ٹیگور کو دی تھی اور میرا خیال ہے کہ میں گنگا کے کنارے آپ کے لیے رہائش کی اجازت حاصل کرنے کے قابل ہو جاؤں گا۔

میں آپ سے ملنے اور ہندوستان آنے کے لیے خاصے عرصے سے بیتاب تھا لیکن غیرمستحکم ریاستی امور کی وجہ سے ایسا نہ ہو سکا۔ اس لیے دوبارہ اجازت نامہ حاصل کرنے کی وجہ سے موسم سرما میں ہندوستان کا سفر کرنے کا ارادہ ترک کر دیا ہے۔ مجھے امید ہے کہ آپ بھی انگلینڈ اور ہندوستان کے درمیان سمندری سفر کے لیے ناسازگار حالات کی بنا پر میرے آنے کا خیال کو چھوڑ دیں گی۔ میں امید کرتا ہوں کہ آپ ٹھیک ہوں گی اور آپ کو آنکھوں کی تکلیف کی اب آپ کو پریشان نہیں کر رہی ہو گی جو آپ کو لاہور رہتے ہوئے تھی۔'

مجھ پر بھروسہ رکھیں۔

میری پیاری ماں

آپ کا سب سے زیادہ پیارا بیٹا

دلیپ سنگھ

دلیپ سنگھ نے یہ خط 22 برس کی عمر میں اپنی والدہ کو لکھا تھا جب رانی جنداں 43 برس کی تھیں۔

دلیپ سنگھ اور ان کی والدہ کے درمیان 11 سال تک رابطہ منقطع رہا۔

پریا اتوال اوکسفرڈ یونیورسٹی میں مہارانی جنداں پر پی ایچ ڈی کر رہی ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ دلیپ سنگھ کے خط کا اسلوب بظاہر فکرمندی سے پر ہے جب کہ مہارانی جنداں کا خط جذبات کا طوفان ہے۔

اتوال کو یقین ہے کہ جن خطوط کا تبادلہ کیا گیا ہے وہ اصل نہیں بلکہ ان کی نقل ہیں۔

برطانوی حکومت ماں بیٹے کے درمیان تعلقات پر کڑی نظر رکھتی تھی کیونکہ برطانوی حکومت کو ڈر تھا کہ جند کور دلیپ سنگھ پر سیاسی اور منفی طور پر اثر انداز ہو سکتی ہیں۔

مہاراجہ دلیپ سنگھ پر سند سمجھے جانے والے پیٹر بینس کا کہنا ہے: 'مہارانی جنداں اپنے بیٹے دلیپ سنگھ سے جدا ہونے کی وجہ سے بہت افسردہ تھیں اور وہ کسی بھی قیمت پر اپنے بیٹے کے ساتھ رہنا چاہتی تھیں۔ وہ برطانوی حکومت کو لکھے جانے والے خطوط میں کہتی ہیں کہ اس نے دلیپ سنگھ کو ان سے جدا کر دیا جسے انھوں نے نو ماہ اپنی کوکھ میں رکھا تھا۔'

جند کور نے نیپال میں 11 برس تک جلاوطنی کی زندگی گزاری اور اس دوران ان کا اپنے بیٹے کے ساتھ کوئی رابطہ نہیں تھا۔

بیٹے کی جانب سے اچانک ملنے والے خط پر اپنے جذبات کا اظہار کرنا یقیناً مشکل رہا ہو گا تاہم جنداں کور نے اسے بھی اچھی طرح ادا کیا۔

کبھی 'باغی ملکہ' کہلائی جانے والی جنداں کور اپنی بینائی کھو چکی ہیں، ان کی صحت خراب ہو چکی ہے۔ اپنے اکلوتے بیٹے کی ایک جھلک دیکھنے کی آرزو دل میں لیے وہ اسے 'دولھا جی' کہہ کر پکارتی ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Peter Bance Collection
Image caption مہارانی جند کور ان کے لختِ جگر دلیپ سنگھ

دوسرا خط

دولھا جی

چار اکتوبر 1859 کو تمہارا انگریزی زبان میں لکھا اور گورومکھی میں دستخط شدہ خط مجھے 19 جنوری 1860 کو نیپال کے وزیر کی وساطت سے ملا۔ اس خط کے مندرجات سن کر مجھے بہت خوشی ہوئی۔ ایک مردہ شخص کے لیے زندگی کی مٹھاس ملنے سے وہ ایک نئی زندگی حاصل کر کے مسرور ہو جاتا ہے۔ میں تمھارا خط پا کر بہت سُکھی ہوں۔'

دولھا جی، میں تمہارے خط کا جواب لکھ رہی ہوں۔ (میری طرح کی دو، تین سو بیوائیں) تمھیں دیکھنے کے لیے سخت بے چین ہیں۔ میں تمھارے لیے رات دن روتی رہی ہوں لیکن اب تمھارا خط پا کر میرا دل گلاب کی کلی کی طرح کھِل گیا ہے۔ تم نے میری آنکھوں کی تکلیف کے بارے میں پوچھا ہے تو میں تمھیں بتانا چاہتی ہوں کہ تمھارا خط دیکھنے کے بعد وہ پوری طرح سے ٹھیک ہو گئی ہیں۔

میں اب کٹھمنڈو میں مقیم ہوں اور وہاں کے دربار والوں نے میری بہت عزت افزائی کی ہے۔ میرے مستقبل کا ارادہ تمہارا چہرہ دیکھنا ہے اور اس کے بعد برطانوی حکومت کی اجازت سے گنگا کے کنارے کسی مقدس مقام پر جانا ہے جہاں میں آرام سے رہ سکوں اور ربّ سے دعا کر سکوں کہ میری زندگی کا خاتمہ ہو جائے۔ لیکن تم نے مجھے جو بھی نصیحت کی ہے میں اس پر عمل کرنے کے لیے تیار ہوں۔

یقین رکھو

میرے پیارے بیٹے

تمھاری شفیق ماں

ماں اور بیٹے نے بہت مشکل حالات میں زندگی گزاری لیکن ان کا تعلق اٹوٹ ثابت ہوا۔

جند کور اور دلیپ سنگھ کی سنہ 1861 میں دوبارہ ملاقات ہوئی جس کے بعد جند کور نے اپنے بیٹے کے ساتھ دو سال برطانیہ میں گزارے۔

امریکی کالج کولبے کے پروفیسر نکی گوریندر کور سنگھ کا کہنا ہے: 'مہاراجہ دلیپ سنگھ اور مہارانی جنداں کے درمیان مہینوں اور براعظموں پر مشتمل خط و کتابت یقیناً بہت قیمتی اثاثہ ہے۔'

ان کا کہنا ہے کہ بیٹے کی تحریر نے ماں کی زندگی کو خوشیوں سے معمور کر دیا۔

گوریندر کور سنگھ کے مطابق 19 ویں صدی کے یہ خطوط ہماری زندگی میں خوشی بھر دیتے ہیں اور جب ہم 14 مئی 2017 کو مدرز ڈے منائیں گے تو یہ ہمارے رشتے کی تجدید کریں گے۔

اس موقعے پر پنجابی زبان کی یہ کہاوت بالکل صادق آتی ہے: 'ماں دی صورت رب دی صورت اے۔'

اسی بارے میں