جنگ اب بیماروں اور کمزوروں سے ہوگی

پاکستان تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption 2014 میں پاکستانی بچے نعلین عزیز کے جگر کی پیوندکاری کا آپریشن انڈیا کے شہر نئی دہلی میں کیا گیا تھا

انڈیا نے پچھلے عشروں میں طبی سائنس میں کافی ترقی کی ہے۔ ایک وقت تھا کہ دلی میں رہنے والوں کو کینسر جیسی پیچیدہ بیماریوں کے لیے چنئی یا ممبئی جانا پڑتا تھا ۔ آج پورے ملک میں جگہ جگہ جدید ترین علاج و معالجے کی سہولیات موجود ہیں ۔

انڈیا میں علاج کی سہولیات اور ہسپتال وغیرہ کا نظام اتنا جدید، کامیاب اور بہترین ہے کہ امریکہ، یورپ اور ایشیا کے کئی ممالک کے لاکھوں لوگ ہر برس انڈیا میں علاج کی غرض سے آتے ہیں۔

پاکستان اور انڈیا میں لفظوں کی جنگ عروج پر

ان گنت بری خبروں میں ایک اور کا اضافہ

علاج کے لیے یہاں آنے کا ایک سبب یہ بھی ہے کہ یہاں علاج کا عالمی معیار ہوتے ہوئے بھی یہ یورپ اور امریکہ کے مقابلے بہت سستا ہے۔

غیر ممالک سے آنے والے مریضوں کی تعداد ہر برس بڑھتی جا رہی ہے۔ کئی ہسپتالوں نے مریضوں کی سہولت کے لیے عربی ، فارسی اور بعض افریقی زبانوں کے مترجم بھی مقرر کیے ہیں۔ سال 2015 اور 2016 میں تقریـباً پانچ لاکھ غیر ملکی مریض علاج کے لیے انڈیا آئے۔

ان مریضوں کی تیمارداری کے لیے رشتےدار بھی ان کے ہمراہ یہاں آتے ہیں۔ گزشتہ برسوں میں یہ طبی سیاحت کئی ارب ڈا لر کی صنعت بن گئی ہے ۔

غیر ممالک سے آنے والے مریضوں میں ہزاروں مریض ہمسایہ ملک پاکستان سے بھی آتے ہیں۔ ان میں بیشتر جگر اور بچوں کے دل کے علاج کے لیے ممبئی، چننئی اور دلی آتے ہیں لیکن گزشتہ فروری میں اچانک ان مریضوں کی تعد اد کم ہوگئی ۔

بھارت اور پاکستان کی سفارتی جنگ اب عوام تک پہنچ چکی ہے اور پچھلے دومہینے میں پاکستانی مریضوں کا آنا بالکل بند ہو گیا ہے کیونکہ بھارت کی حکومت نے پاکستان سے آنے والے مریضوں کو ویزا دینا بند کر دیا ہے۔

پاکستان میں بھارتی بحریہ کے ایک سابق اہلکار کلبھوشن جادھو کو جاسوسی اور تخریب کاری کے جرم میں موت کی سزا سنائے جانے کے بعد بھارت کی حکومت نے پاکستانی مریضوں کے لیے یہ شرط عائد کر دی کہ صرف ان مریضوں کو ویزا دیا جائے گا جن کے پاس پاکستان کے خارجی امور کے مشیر سرتاج عزیز کا سفارشی خط ہو گا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption سال 2015 اور 2016 میں تقریـباً پانچ لاکھ غیر ملکی مریض علاج کے لیے انڈیا آئے تھے

دونوں ممالک کے تعلقات جس نہج پر پہنچ چکے ہیں ان حالات میں سرتاج عزیز شاید ہی کسی مریض کو بھارت جانے کا سفارشی خط جاری کریں گے ۔

تلخیوں کے اس دور میں فلم آرٹسٹ، اور کھلاڑیوں کے بعد مریضوں کوبھی ویزا نہ دینے پر سول سوسائٹی نے تشویش اور افسوس کا اظہار کیا ہے ۔

پاکستان کی سول سوسائٹی نے بھارت کی حقوق انسانی کی تنطیموں پر زور دیا ہے کہ وہ بھارت کی حکومت پر دباؤ ڈالیں کہ وہ انسانی ہمدردی کی بنیادوں پر کم ازکم مریضوں کے لیے ویزا جاری کرنے میں کوئی پابندی نہ عائد کرے۔

لیکن یہ نفرتوں کا دور ہے۔ سرحدوں پر صرف ہلاکتیں ہی نہیں ہو رہیں بلکہ نفرتوں اور تلخیوں کی شدت کے اظہار کے لیے انسانی لاشوں کی بے حرمتی بھی کی جا رہی ہے ۔

دونوں جانب تناؤ عروج پر ہے ۔ کنٹرول لائن پر گولا باری ہو رہی ہے۔ کشمیر ایک دبا ہوا آتش فشاں بنا ہوا ہے۔ بھارت کے ٹی وی چینلز بپھرے ہوئے گؤ رکشکوں کی طرح ایک ہجومی اور ہسٹیرائیائی نفسیات کا شکار لگتے ہیں۔

صرف نفرت ہی ایک ایسی کیفیت جو ہر جگہ مشترک نظر آتی ہے ۔ اس مسلسل بڑھتی ہوئی نفرت نے اب ان ہزاروں کمزور اور مصبیت زدہ مریضوں کو بھی اپنی گرفت میں لے لیا ہے جنہیں ڈاکٹرز اور طبی ماہرین نئی زندگی دیا کرتے تھے ۔

یہ صرف دو ملکوں کے بگڑتے ہوئے رشتوں کا سوال نہیں ہے یہ بکھرتی ہوئی انسانی قدروں کا غماز ہے جس کی جوابدہی صرف حکومت کی ہی نہیں پورے معاشرے کی ہے ۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں