روہتک: ریپ کا شکار دس سالہ بچی کو اسقاطِ حمل کی اجازت

انڈیا، زیادتی کیس تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption انڈین حکومت کی ایک تحقیق کے مطابق دنیا بھر میں سب سے زیادہ بچے انڈیا میں جنسی زیادتی کا نشانہ بنتے ہیں

انڈیا میں طبی حکام نے جنسی زیادتی کا شکار بننے والی دس سالہ بچی کو اسقاطِ حمل کی اجازت دینے کا فیصلہ کیا ہے۔

ریاست ہریانہ کے شہر روہتک سے تعلق رکھنے والی اس بچی کو اس کے سوتیلے والد نے متعدد بار ریپ کیا تھا جس کے نتیجے میں وہ حاملہ ہوگئی تھی۔ ان کو حمل ٹھہرے 20 ہفتے سے زیادہ وقت گزر چکا ہے۔

ریپ کا شکار بچی کی اسقاطِ حمل کے لیے درخواست

’انڈیا میں ریپ کے جھوٹے دعوے ایک مسئلہ‘

انڈین قانون کے مطابق 20 ہفتے سے زیادہ کا حمل صرف اسی صورت میں ضائع کیا جا سکتا ہے جب ڈاکٹر یہ تصدیق کر دیں کہ حاملہ خاتون کی جان کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔

خیال رہے کہ یہ سخت قانون انڈیا میں صنفی عدم تناسب کی وجہ سے متعارف کروایا گیا تھا۔

روہتک کے سرکاری ہسپتال کے سینیئر ڈاکٹر اشوک چوہان نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ ڈاکٹروں کے پینل نے اسقاطِ حمل کی اجازت دینے کا فیصلہ کیا ہے اور یہ عمل جلد ہی انجام دیا جائے گا۔

ڈاکٹر چوہان کا کہنا ہے کہ ’بچی 20 ہفتوں کی حاملہ ہے، تاہم یہ 19 یا 21 ہفتے بھی ہو سکتے ہیں، ٹیکنالوجی اتنی جدید نہیں کہ وہ درست طور پر یہ بتا سکے کہ حمل کا کونسا ہفتہ چل رہا ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption سنہ دو ہزار بارہ میں ایک طالبہ سے اجتماعی جنسی زیادتی اور قتل کے بعد دلی میں شدید مظاہرے ہوئے تھے

منگل کو مقامی عدالت نے بھی پوسٹ گریجویٹ انسٹیٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز سے تعلق رکھنے والے ڈاکٹروں کے پینل کے فیصلے کی توثیق کر دی ہے۔

10 سالہ بچی کے حاملہ بننے کی خبر گذشتہ ہفتے سامنے آئی جب ان کی والدہ کو جو ایک گھریلو ملازمہ ہیں، شک ہوا کہ ان کی بیٹی حاملہ ہے اور وہ اسے قریبی ہسپتال لے گئیں۔

بی بی سی کے نامہ نگار پنکج نارائن کے مطابق لڑکی کی والدہ کی جانب سے پولیس میں رپورٹ درج کروانے پر ان کے سوتیلے والد کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔

گذشتہ چند ماہ کے دوران انڈیا کی سپریم کورٹ میں ایسی کئی درخواستیں دائر کی گئی ہیں جن میں ریپ کا شکار ہونے والی خواتین 20 ہفتے سے زیادہ عرصے کا حمل ضائع کرنا چاہتی ہیں اور عدالت نے ایسے تمام معاملات ڈاکٹروں کے سپرد کیے ہیں۔

انڈین حکومت کی ایک تحقیق کے مطابق دنیا بھر میں سب سے زیادہ بچے انڈیا میں جنسی زیادتی کا نشانہ بنتے ہیں۔

اسی بارے میں