انڈیا میں ہزاروں خواتین کام کرنا کیوں چھوڑ رہی ہیں؟

انڈیا تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption عارضی ملازمتیں کرنے والی خواتین نے مردوں کی تنخواہوں میں اضافے کے بعد کام چھوڑ دیا

انڈیا کی تاریخ میں پہلی مرتبہ خواتین ملازموں کی تعداد میں کمی آئی ہے بلکہ مجموعی طور پر کام کرنے والی عورتوں کی تعداد بھی کم ہوئی ہے۔

  • سنہ 2004 سے سنہ 2012 کے درمیان دو کروڑ خواتین نے کام کرنا چھوڑا۔
  • مزدوری کرنے والے خواتین کی اوسط 1993 اور 1994 میں 42 فیصد تھی جو کم ہو کر 2011 اور 2012 میں 31 فیصد رہ گئی ہے۔
  • مجموعی تعداد میں 53 فیصد کمی ہوئی ہے جن میں 15 سے 24 سال کی خواتین شامل ہیں جو دیہات میں رہتی ہیں۔
  • دیہات کی خواتین مزدوروں کی تعداد بھی سنہ 2004 کے مقابلے میں سنہ 2010 میں 49 فیصد سے کم ہو کر 37.8 فیصد پر آ گئی ہے۔
  • 20104 سے 2010 کے درمیان دو کروڑ 40 لاکھ مرد افرادی قوت میں شامل ہوئے جبکہ دو کروڑ 17 لاکھ خواتین کم ہوئیں۔

نیشنل سیمپل سروے آرگنائزیشن اور مردم شماری کے اعداد و شمار کا جائزہ لیتے ہوئے ورلڈ بینک کے تحقیق کاروں نے اس کی وجوہات جاننے کی کوشش کی۔

مطالعے میں کہا گیا ہے کہ ’یہ خاصی تشویش کی بات ہے۔ ایسے میں جب انڈیا اقتصادی نمو اور تیز تر ترقی کے لیے پر عزم ہے اسے یہ بات یقینی بنانی ہو گی کہ ان کی افرادی قوت میں خواتین بھی شامل ہوں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption خواتین کو زیادہ مستحکم اور زراعت سے باہر کام کے مواقع کی تلاش ہے

معاشی ترقی کے اس نازک موڑ پر خواتین کی شرکت میں کمی کی کیا وجہ ہے؟

بعض روایتی معاشرتی روایات انڈیا میں خواتین کے کام سے الگ ہونے کی وجوہات میں شادی، ماں بننا، صنفی جھگڑے، تعصب، پدر شاہی رویے شامل ہیں۔

لیکن شاید یہی وہ وجوہات نہ ہوں۔ مثال کے طور پر شادی کسی حد تا کام چھوڑنے کی وجہ تو ہو سکتی ہیں لیکن دیہاتوں میں کام کرنے والوں میں شادی شدہ عورتوں کی تعداد غیر شادی شدہ عورتوں سے زیادہ ہے۔ تاہم شہروں میں صورت حال اس کے برعکس ہے۔ لیکن یاد رہے کہ زیادہ کمی بھی دیہی علاقوں میں ہی ہوئی ہے۔

تحقیق کے مطابق ’کام کرنے والے افراد اور تعیلمی سرگرمیوں میں شامل افراد کی تعداد کا جائزہ لینے سے پتہ چلا کہ 15 سے 24 سال کی دیہاتی لڑکیوں اور خواتین کی تعداد میں کمی کی وجہ ان علاقوں میں سیکنڈری تعلیم کی فراہمی ہے۔ اب وہاں خواتین کام کرنے سے زیادہ تعلیم حاصل کرنے پر توجہ دے رہی ہیں۔‘

اس کے علاوہ عارضی ملازمتیں کرنے والی خواتین نے مردوں کی تنخواہوں میں اضافے کے بعد کام چھوڑ دیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption خواتین کے کام سے الگ ہونے کی وجوہات میں شادی، ماں بننا، صنفی جھگڑے اور تعصب، پدر شاہی رویے شامل ہیں

لیکن تعلیم کے کام چھوڑنے والوں کے حوالے سے بھی یہ یقینی نہیں ہے کہ وہ آحر کار کام پر لوٹیں گی کیونکہ سکول اور ہائی سکولز سے تعلیم حاصل کرنے والی خواتین میں کام چھوڑنے کی شرح سب سے زیادہ ہے۔ تاہم تعلیم کے حصول کے علاوہ بھی مجموعی طور پر خواتین کے کام کرنے کے رجحان میں کمی ہوئی ہے۔

انڈیا میں خواتین کے کام کرنے کے حوالے سے ریکارڈ بھی کچھ خاص اچھا نہیں ہے۔ اسے 2013 میں انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن نے 131 ممالک میں 121ویں نمبر پر رکھا تھا۔

خواتین کو زیادہ مستحکم اور زراعت سے باہر کام کے مواقع کی تلاش ہے۔ دیہاتوں میں خواتین کے لیے قابلِ قبول اور پر کشش ملازتوں کی پیشکش کی ضرورت ہے جو خواتین اور ان کے خاندانوں کے لیے قابلِ قبول ہو۔

ورلڈ بینک کا کہنا ہے کہ یہ مقاصد اس وقت تک حاصل نہیں کیے جا سکتے جب تک مردوں اور خواتین کے لیے معاشرتی روایات کو نہ تبدیل کیا جائے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں