لڑکی نے پستول دکھا کر شادی کے منڈپ سے دولھے کو اغوا کر لیا

اشوک یادو تصویر کے کاپی رائٹ SHAHID AHMED KHAN
Image caption اشوک کی شادی مودها قصبے کے پدمنابھن سکول میں ہو رہی تھی

ریاست اتر پردیش کے ہمیر پور ضلعے میں ایک لڑکی نے دولھے کی کنپٹی پر پستول رکھ کر اسے شادی کی تقریب سے اغوا کر لیا۔

سننے میں یہ کہانی فلمی لگتی ہے لیکن حقیقت پر مبنی ہے۔

ہمیر پور سے تقریباً 70 کلومیٹر کے فاصلے پر مودها قصبے کے پدمنابھن سکول میں ایک شادی کی تقریب بس ختم ہی ہونے والی تھی۔ زیادہ تر مہمان کھانا کھاکر نکل چکے تھے اوردونوں خاندانوں کے رشتے دار شادی کے منڈپ میں تھے۔ تبھی سکول کیمپس میں ایک فور ویل گاڑی پہنچی۔

اس گاڑی سے ایک خاتون ہاتھ میں پستول لہراتی ہوئی باہر نکلیں۔ ان کے ساتھ دو آدمی اور بھی تھے۔ خاتون نے اپنی پستول دولھے کی کنپٹی پر رکھی اور اسے اپنے ساتھ چلنے کو کہا۔

تصویر کے کاپی رائٹ SHAHID AHMED KHAN
Image caption اشوک یادو شادی کے منڈپ پر اغوا سے پہلے

مجبور ہوکر دولھے نے ویسا ہی کیا اور پھر گاڑی فراٹے سے وہاں سے نکل گئی۔ شادی کے منڈپ میں موجود سبھی لوگ یہ دیکھ کر دنگ رہ گئے۔

ضلع ہمیر پور کی انتظامیہ اور پولیس اب یہ معلوم کرنے کی کوشش میں ہیں کہ آخر معاملہ کیا ہے۔

پولیس حکام اس بات کی بھی تفتیش کر رہے ہیں کہ وہ خاتون تھیں کون اور آخر انھوں نے دولھے کو کیوں اغوا کیا۔

پولیس کا کہنا ہے کہ دولھے کا نام اشوک یادو ہے اور وہ ہمیر پور کے مٹودھا گاؤں کا رہنے والا ہے۔ وہ كمپاؤنڈر کام کرتا ہے اور اس کی شادی مودها میں رہنے والی لڑکی بھارتی یادو سے ہو رہی تھی۔

ہمیر پور کے ایک سینیئر پولیس افسر بی کے مشرا نے بتایا: 'دلھن کے فریق نے واقعے کی تحریری اطلاع دی ہے کہ دولھے کو کسی خاتون نے پستول کی مدد سے اغوا کر لیا ہے۔ ہم اس معاملے کی تحقیقات کر رہے ہیں۔ عورت کون ہے، اس کا نام کیا ہے یہ سب پتہ کیا جا رہا ہے۔'

پولیس کا خیال ہے کہ اشوک کا جس خاتون نے اغوا کیا ہے ممکن ہے کہ ان دونوں میں محبت کا بھی کوئی چکر رہا ہو۔ یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ شاید دونوں نے چپکے سے شادی بھی کر لی ہو۔

تصویر کے کاپی رائٹ SHAHID AHMED KHAN
Image caption اشوک یادو منڈپ پر شادی کی تقریب میں

بی کے مشرا نے بی بی سی سے بات چیت میں کہا: 'اشوک کسی دوسری لڑکی سے شادی کر رہا تھا شاید اس لیے اس خاتون نے اس کو اغوا کر لیا ہو۔'

اشوک کے والد رام ہیت یادو نے پولیس کو بتایا کہ ان کے بیٹے کی پہلی بیوی دو برس قبل انتقال کر گئی تھی جس کے بعد یہ دوسری شادی ہو رہی تھی۔

انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کے بیٹے اشوک نے اگر چوری چھپے کچھ کیا ہو تو انھیں اس کا علم نہیں ہے۔

 دوسری طرف دلھن کے والد رام سجيون یادو کا کہنا تھا کہ 'ہم نے شادی میں کافی پیسہ خرچ کیا ہے۔ ہمیں انصاف ملنا چاہیے۔'

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں