رمضان کی آمد آمد، آر ایس ایس افطار لے کر تیار ہے

ام تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption رمضان میں پھلوں کی فروخت میں بہت اضافہ ہو جاتا ہے اور لوگ افطار و سحر میں اس کا استعمال کرتے ہیں

رمضان کی آمد آمد ہے۔ مسلمانوں نے کتنی تیاریاں کی ہیں یہ تو معلوم نہیں لیکن سخت گیر ہندو تنظیم آر ایس ایس افطار لے کر تیار ہے۔

آر ایس ایس کی مسلم ونگ کا کہنا ہے کہ وہ اترپردیش میں رمضان کے ہر جمعے کو افطار کا انتظام کریں گے۔

لیکن افطار میں صرف گائے کا دودھ یا اس کے دودھ سے بنی ہوئی اشیا ہوں گی تاکہ گھر گھر 'گائے بچاؤ' کا پیغام جائے اور اس کے ساتھ یہ بھی پیغام جائے کہ گائے کا گوشت بیماریوں کو دعوت دیتا ہے۔

٭ 'انسانی جان کی قیمت گائے سے زیادہ نہیں'

٭ 'مسلمان گائے کا گوشت ترک کرکے پہل کریں'

انڈیا کی خبر رساں ایجنسی پی ٹی آئی کے مطابق آر ایس ایس کے مسلم ونگ مسلم راشٹریہ منچ (ایم آر ایم) کے اترپردیش اور اتراکھنڈ ریاستوں کے قومی شریک کنوینر مہیراج دھوج سنگھ نے کہا کہ پہلی بار ایسا ہوگا کہ روزے دار گائے کے دودھ کے ایک گلاس سے اپنا افطار کریں گے۔

ایم آر ایم کا قیام سنہ 2002 میں آر ایس ایس کے سربراہ کے ایس سدرشن کی پیش قدمی پر عمل میں آیا تھا تاکہ آر ایس ایس جسے سنگھ بھی کہتے ہیں وہ مسلمانوں تک پہنچ سکے۔

دھوج سنگھ نے پی ٹی آئی کو بتایا: افطار میں زور گائے کے دودھ اور دودھ سے بنی دوسری اشیا پر ہوگا۔ اور پہلی بار ایسا ہوگا کہ اتر پردیش میں اس قسم کے افطار کا انتظام ہوگا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption بیشتر مساجد میں بڑے پیمانے پر افطار کا انتظام ہوتا ہے

گائے کے دودھ کے فوائد کا ذکر کرتے ہوئے انھوں نے کہا: مسلم سکالرز بھی گائے کے دودھ کو صحت کے لیے مفید اور اس سے بنے گھی کو طبی لحاظ سے سود مند قرار دیتے ہیں۔

اس کے ساتھ ہی انھوں نے کہا کہ اس کے برعکس گائے کا گوشت بہت سی بیماریوں کو دعوت دیتا ہے۔

انھوں نے یہ بھی کہا کہ رمضان میں خصوصی نماز کا اہتمام کیا جائے گا جس میں گائے کے تحفظ کے لیے اپیل کی جائے گی۔

Image caption ایودھیا میں بابری مسجد کو سنہ 1992 میں منہدم کر دیا گیا تھا

رمضان میں نمازوں کا اہتمام ہوگا اور اس میں محبت، اخوت اور بھائی چارے کو پھیلانے کی بات کی جائے گی۔ انھوں نے کہا کہ ایم آر ایم کے رضاکار محبت اور اخوت کو پھیلانے کی قسم لیں گے: 'چلیے ہم ایک خوشحال بھارت کی تعمیر کریں۔ ہم عہد کریں کہ ایوادھیا کے جاری تنازع کو ہم باہمی رضامندی کے ساتھ حل کر لیں کے۔

خبررساں ایجنسی کے مطابق لکھنؤ میں پسماندہ مسلم سماج تنظیم کے صدر نے اس پیش قدمی خیر مقدم کیا ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں