’اروندھتی رائے کو فوجی جیپ سے باندھنا چاہیے‘

رائے تصویر کے کاپی رائٹ Facebook
Image caption اروندھتی رائے مصنفہ اور سماجی کارکن ہیں، جو اکثر کشمیریوں کے حق میں بولتی نظر آتی ہیں

کیا اپنی بات کو صحیح انداز میں کھل کر کہنے پر جیپ سے باندھ کر گھمایا جانا چاہیے؟

جمہوری نظام پر یقین رکھنے والے لوگ اس کا جواب ’نہیں‘ میں دیں گے لیکن اسی سوال پر حکمراں جماعت بی جے پی کے رہنما اور اداکار پریش راول کی رائے کچھ مختلف ہے۔

کشمیری نوجوان کو فوجی جیپ سے باندھنے کی مذمت

کشمیر میں زیادتیوں کی ویڈیوز کے بعد افراتفری

کشمیر:اب سوال نریندر مودی سے پوچھا جائے گا

فوجی جیپ سے کشمیری نوجوان کو باندھ کر گھمانے کے معاملے کو آگے بڑھاتے ہوئے پریش راول نے ایک ٹویٹ کیا ہے۔

پریش راول نے لکھا کہ ’آرمی جیپ پر پتھر پھیکنے والوں کو باندھنے کے بجائے اروندھتی رائے کو باندھنا چاہیے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Twitter

کہاں سے شروع ہوا معاملہ؟

اروندھتی رائے مصنفہ اور سماجی کارکن ہیں، جو اکثر کشمیریوں کے حق میں بولتیں نظر آتی ہیں۔

کچھ میڈیا رپورٹس کے مطابق حال ہی میں اروندھتی رائے نے کہا تھا کہ ’انڈیا کشمیر میں اگر سات سے 70 لاکھ فوجی بھی تعینات کر دے، تب بھی کشمیر میں اپنا ہدف نہیں پا سکتا۔‘

اس ٹویٹ پر پریش راول کو سوشل میڈیا پر تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، اگرچہ اس معاملے میں پریش راول جیسی سوچ رکھنے والے کچھ لوگ اسے پسند بھی ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption پریش راول کو سوشل میڈیا پر تنقید کا نشانہ بنایا جارہا ہے

رائے، راول تنازع، لوگ کیا بولے؟

صحافی پرینکا بورپجاري نے لکھا کہ ’فلموں میں اپنے کردار میں اپنی جان پھونکنے کے فن کی میں قائل ہوں۔ لیکن آپ کے پرتشدد الفاظ سے میں حیران ہوں۔ کیا آپ جانتے ہیں کہ اس ٹویٹ سے تشدد بھڑکانے پر آپ کو جیل ہو سکتی ہے۔‘

سنیل گوسوامی اس کا جواب دیتے ہوئے لکھتے ہیں کہ ’ساگریكا گھوش کھلے عام فساد بھڑکانے کی کوشش کرتی ہیں، وہ آپ کو سب کے لیے ٹھیک ہے؟‘

اتنا ہی نہیں، کچھ لوگوں نے تو دوسرے معروف صحافیوں کو بھی نشانہ بنایا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Twitter

اشونی شرما نے قابل اعتراض تبصرہ کرتے ہوئے لکھا کہ ’سر، اگر آرمی ساگریكا گھوش، برکھا دت اور رعنا ایوب کو باندھے تو اس جیپ پر میں پتھر پھینكوں گا۔‘

ٹوئٹر پر خود کو وی ایچ پی کا کارکن کہلوانے والے ابھیشیک مشرا لکھتے ہیں کہ ’باندھنے کے لیے بہت سے لوگ ہیں۔ اروندھتی ان میں سے ایک ہیں۔ فہرست طویل ہے ایسے لوگوں کی۔‘

ریئل بائیٹس نامی ٹوئٹر اکاؤنٹ والے ایک شخص نے طنزاً کیا کہ ’یہی ہوتا ہے، جب ایک مسخرا وزیر بن جاتا ہے۔‘

رتوپرنا نے لکھا کہ ’میں یہ نہیں سمجھ پا رہی ہوں کہ آپ کی پارٹی بی جے پی اس کے خلاف اب تک کیوں نہیں بولی ہے۔ ہمارے وزیر اعظم نریندر مودی کہاں ہیں؟‘

تصویر کے کاپی رائٹ Twitter

وشاكھا لکھتی ہیں کہ ’اے بھگوان، آپ کو بھی اروندھتی کی کتاب گاڈ آف سمال تھنگز سمجھ نہ آنے کا غصہ ہے۔ ایسا ہوتا ہے۔ پڑھے لکھے ہوتے تو انسان ہوتے۔‘

ونے کمار نے ٹویٹ کیا کہ ’یہ ٹویٹ بتاتا ہے کہ تعلیم کی کمی سے انسان میں انسان کی طرح برتاؤ کرنے کی قابلیت نہیں رہ گئی ہے۔‘

منیش چندرا نے کہا کہ ’سر یہ بہت برا ہے۔ آپ ایک قابل بھروسہ اداکار ہیں اور سڑک کنارے شخص سے بھی ناقص ہے یہ بیان۔ کسی کو بھی اس طرح نہیں باندھا جانا چاہیے۔‘

سنیل جین نے لکھا کہ ’ملک میں ایک فنکار ایسا بھی ہے جسے نریندر مودی بھی فالو کرتے ہیں۔ دل جوش ہو گیا، اتنے اعلیٰ خیال سن کر؟‘

تصویر کے کاپی رائٹ Twitter

جیپ سے باندھا، آرمی نے کلین چٹ دی

حال ہی میں کشمیری نوجوان فاروق احمد ڈار کو انڈین فوج کی جیپ کے بونٹ سے باندھ کر گھمایا گیا تھا۔

اس ویڈیو کے وائرل ہونے کے بعد فوج نے تفتیش کا حکم دیا۔ بعد میں فاروق کو جیپ سے باندھنے والے فوج کے افسر کو کلین چٹ دی گئی تھی۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں