کشمیری شخص کو جیپ پر بطور ڈھال باندھنے والے افسر کے لیے فوجی اعزاز

کشمیر تصویر کے کاپی رائٹ Twitter
Image caption یہ تصویر اپریل کے مہنے میں وائرل ہو گئی تھی جس میں ایک مقامی شخص کو جیپ کے آگے باندھ کر انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کیا گيا ہے

انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر میں ایک شہری کو جیپ سے باندھ کر بطور انسانی ڈھال استعمال کرنے والے فوجی افسر کو ملک کے فوجی سربراہ کی جانب سے اعزاز دیا گيا ہے۔

میجر لیٹول گوگوئی نے مبینہ طور پر اپنے کارواں کو سنگ باروں سے بچانے کے لیے ایک مقامی شخص کو جیپ سے باندھا تھا۔ اس معاملے کی تحقیقات کا حکم دیا گیا تھا۔

٭ کشمیری نوجوان کو فوجی جیپ سے باندھنے کی مذمت

’اروندھتی رائے کو فوجی جیپ سے باندھنا چاہیے‘

فوج کا کہنا ہے کہ یہ ایوارڈ انھیں علاقے میں جاری سرکشی کے خلاف ان کی مستقل کوششوں کے اعتراف میں دیا گیا ہے اور اس کا جیپ پر کسی شخص کو باندھنے والے واقعے سے کوئی تعلق نہیں۔

انڈیا کی خبر رساں ایجنسی نے کہا ہے کہ 'میجر گوگوئی کو انسرجینسی مخالف ان کی مستقل کوششوں کے لیے آرمی سٹاف کی جانب سے توصیفی کارڈ دیا گیا ہے۔'

خیال رہے کہ جیپ والے واقعے کا ویڈیو اپریل میں وائرل ہوا تھا اور بہت سے لوگوں نے اسے غیر انسانی فعل قرار دیا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Twitter
Image caption جموں کشمیر کے سابق وزیر اعلی نے اس تصویر کے ساتھ اپنے غم و غصے کا اظہار کیا تھا

فوج نے کہا ہے کہ اس کے متعلق جانچ جاری ہے۔ اپریل میں کشمیر میں ضمنی انتخابات منعقد کرانے کی کوششوں کے دوران تصادم کی تازہ لہر نظر آئی ہے۔

کشمیر میں تعینات سکیورٹی فورسز پر مظاہرین کے خلاف فائرنگ کا الزام ہے جبکہ مقامی مظاہرین سکیورٹی فور‎سز پر سنگ باری کرتے ہیں۔

اس سے قبل ایک فوجی کو کشمیریوں کے ہاتھوں تنگ کیے جانے والے ویڈیو کے وائرل ہونے بعد سے ملک میں کشمیریوں کے خلاف جذبات میں اضافہ ہوا ہے۔

خیال رہے کہ مسلم اکثریتی علاقے کشمیر میں انڈیا کے خلاف سنہ 1989 سے مسلح بغاوت جاری ہے۔

شدید بے روزگاری اور مظاہرین کے خلاف سکیورٹی فورسز کی ظلم و زیادتی کی شکایتوں نے اس مسئلے کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں