’مودی حکومت میں ہیں، پاکستان سے بہتر تعلقات کی امید نہ کریں‘

مودی تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption ملک میں کہیں گائے کے تحفظ اور کہیں لو جہاد کےنام پر تشدد سے فرقہ وارانہ ماحول خراب ہوا، اور نریندر مودی کے رپورٹ کارڈ پر یہ ایک اور بڑا لال نشان مانا جاتا ہے

انڈیا میں وزیر اعظم نریندر مودی کی حکومت کو تین سال پورے ہو گئے ہیں۔

تو اس دوران کیسا رہا ان کا دور اقتدار؟ تیز رفتار اقتصادی ترقی کا وعدہ کس حد تک پورا ہوا اور پاکستان سے تعلقات کیوں استوار نہیں ہو سکے؟

سوال بہت ہیں لیکن فی الحال توجہ روزگار پر زیادہ ہے جہاں نریندر مودی کا رپورٹ کارڈ کافی خراب ہے۔ گذشتہ برس صرف تقریباً سوا لاکھ روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوئے، جو گذشتہ آٹھ برسوں میں سب سے کم ہیں۔

مودی کا انقلاب جو نظر نہیں آتا

مودی دس طاقتور رہنماؤں میں شامل

تین برسوں میں مودی حکومت نے کئی اہم فیصلے کیے اور کئی نئے پروگرام شروع کیے، صفائی کی مہم، ’میک ان انڈیا‘ پروگرام، لوگوں کو کسی ہنر کی تربیت دینے کا پروگرام وغیرہ وغیرہ۔ لیکن تنقید یہ ہے کہ بظاہر ان کا کوئی خاص اثر نظر نہیں آیا۔ لیکن پورے ملک میں اب ٹیکس کا یکساں نظام (جی ایس ٹی) نافذ کرنے کی راہ ہموار ہوگئی ہے اور اسے ایک بڑی کامیابی مانا جارہا ہے۔

لیکن وزیر اعظم نریندر مودی کو ان کے دو بنیادی وعدوں پر پرکھا جائے گا: سب کو ساتھ لیا اور سب کی ترقی ہوئی یا نہیں اور پاکستان کو سبق سکھایا یا نہیں؟

ملک کی معیشت اوسطاً سات فیصد کی رفتار سے ترقی کر رہی ہے، یہ اچھی خبر ہے، بری خبر یہ ہے کہ بہت سے ماہرین مانتے ہیں کہ یہ اعداد و شمار کی جادوگری ہے، اصل رفتار اس سے کہیں کم ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption گذشتہ برس اچانک بڑے کرنسی نوٹ بند کیے جانے سے زندگی مفلوج ہوئی اور معیشت کو نقصان پہنچا

لیکن اس بحث سے قطع نظر اس وقت بنیادی سوال یہ ہے کہ وہ لاکھوں کروڑوں نوکریاں کہاں ہیں جن کا نریندر مودی نے وعدہ کیا تھا۔

ڈاکٹر راہل مشرا سیاسی تجزیہ کار ہیں، وہ کہتے ہیں کہ نوکریوں کے معاملے میں مودی حکومت کا رپورٹ کارڈ کافی خراب ہے، میک ان انڈیا جیسے کئی پروگرام تو شروع کیے گئے لیکن ان کے نتیجے میں روزگار کے زیادہ مواقع پیدا نہیں ہوئے۔

نریندر مودی نے کئی غیر معمولی فیصلے بھی کیے۔

گذشتہ برس اچانک بڑے کرنسی نوٹ بند کیے جانے سے زندگی مفلوج ہوئی اور معیشت کو نقصان پہنچا، چند روز قبل خود بی جے پی کے ایک رہنما نے اعتراف کیا کہ نوٹ بند ہونے سے بہت سے لوگوں کی نوکریاں ختم ہوئیں۔

ملک میں کہیں گائے کے تحفظ اور کہیں ’لو جہاد‘ کے نام پر تشدد سے ماحول خراب ہوا، اور نریندر مودی کے رپورٹ کارڈ پر یہ ایک اور بڑا لال نشان مانا جاتا ہے۔

لیکن اس کے باوجود نریندر مودی کی کشش بظاہر کم نہیں ہوئی ہے، اتر پردیش میں پارٹی کی حالیہ کامیابی اس کی ایک مثال ہے، بہت سے تجزیہ کار مانتے ہیں کہ نریندر مودی میں نوجوانوں کا اعتماد ابھی باقی ہے اور وہ ابھی اچھے دنوں کا انتظار کرنے کے لیے تیار ہیں۔

نریندر مودی کے حکومت میں آنے کے بعد یہ امید بھی جاگی تھی کہ انتخابی مہم کی بیان بازی سے قطع نظر پاکستان سے تعلقات بہتر ہوسکتے ہیں، لیکن ایسا ہوا نہیں۔

کانگریس کے سینئر لیڈر منی شنکر ائر کہتے ہیں کہ نریندر مودی کی حلف برداری کے بعد وہ پاکستان گئے تھے تو وہاں لوگ کہہ رہے تھے کہ یہ ’انڈیا کا نکسن ہے، (امریکی صدر جو تعلقات استوار کرنے چین گئے تھے) اب تعلقات ٹھیک ہو جائیں گے لیکن اب جا کر دیکھیے وہاں لوگ ان کے بارے میں کیا کہتے ہیں۔۔۔ جب تک مودی حکومت میں ہیں، تعلقات میں بہتری کی کوئی امید نہیں کی جانی چاہیے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption انڈیا میں حزب اختلاف کا الزام ہے کہ مودی کی کوئی واضح خارجہ پالیسی نہیں ہے، کم سے کم پاکستان سے متعلق تو بالکل نہیں

تین سال پہلے جب نریندر مودی نے اپنے عہدے کا حلف اٹھایا تھا، تو اس تقریب میں پاکستان کے وزیر اعظم نواز شریف بھی موجود تھے، اب اس مصافحے کی گرمجوشی پوری طرح ٹھنڈی پڑ چکی ہے۔

انڈیا میں حزب اختلاف کا الزام ہے کہ مودی کی کوئی واضح خارجہ پالیسی نہیں ہے، کم سے کم پاکستان سے متعلق تو بالکل نہیں، لیکن بہت سے تجزیہ کار کہتے ہیں کہ پاکستان سے تعلقات بہتر کرنے کی کوششوں کا مودی کو مثبت جواب نہیں ملا۔

ان کے چاہنے والے تو اتنی جلدی ان کا دامن چھوڑنے کو تیار نہیں، لیکن مخالفین خوش ہیں کہ تین سال گزر گئے ہیں اور بس دو باقی ہیں۔

لیکن دو سال بعد نیا الیکشن ہوگا، ایک طرف تو نریندر مودی ہوں گے، دوسری طرف میدان ابھی خالی ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں