انڈیا میں ریپ کے بڑھتے واقعات

ریپ سے متاثرہ خاتون تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

16 دسمبر 2012 کو انڈیا میں میں چلتی بس کے اندر نربھیا نامی ایک طالبہ کے گینگ ریپ نے پورے ملک کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔ اس کے بعد ریپ کے خلاف جگہ جگہ مظاہرے ہوئے تھے اور اس ضمن میں قانون سازی بھی کی گئی تھی۔

اس واقعے کے چار مجرمان کو سزائے موت سنائی جا چکی ہے، لیکن اس کے باوجود انڈیا میں ریپ کے واقعات میں کوئی کمی نہیں آ رہی۔ ذیل میں گذشتہ کچھ عرصے میں پیش آنے والے چند اہم واقعات کا ذکر کیا جا رہا ہے:

یکم ستمبر 2016

ہریانہ کے میوات ضلعے کے ڈینگر ہیڑی گاؤں میں دو مسلمان خواتین کے اجتماعی ریپ کے وا‏قعے سے علاقے میں دہشت پھیل گئی تھی۔

حلمہ آوروں نے مبینہ طور پر ایک بچی اور ایک شادی شدہ خاتون کے ساتھ ریپ کیا اور ان کے دو رشتے داروں کو زد و کوب کر کے قتل کر دیا تھا۔ اس حملے میں دو بچوں سمیت چار افراد بری طرح زخمی بھی ہو ئے تھے۔

مقامی رہنما اور میو برادری کے رہنما رمضان چودھری نے بتایا کہ اس واقعے سے لوگ دہشت زدہ ہو گئے ہیں کیونکہ اس طرح کا خوفناک واقعہ اس سے پہلے اس علاقے میں کبھی نہیں ہوا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption دہلی میں ریپ کے خلاف احتجاجی مظاہرہ

نو ستمبر 2016

بھارت کی ریاست گجرات میں ایک ڈاکٹر کو ڈینگی سے متاثرہ مریضہ کے ساتھ مبینہ طور پر جنسی زیادتی کرنے پر گرفتار کیا۔

پولیس کا کہنا تھا کہ احمد آباد کے ایک ہسپتال کے انتہائی نگہداشت کے یونٹ میں داخل ایک 21 سالہ لڑکی کو ڈاکٹر نے مبینہ طور پر ریپ کیا۔

پولیس کا کہنا تھا کہ ڈاکٹر نے لڑکی کو بے ہوشی کی دوا دے کر اس کے ساتھ جنسی زیادتی کی۔

اس سلسلے میں جو بات سب سے زیادہ میڈیا پر شیئر کی گئی وہ یہ تھی کہ مبینہ طور پر اس ڈاکٹر کا تعلق پاکستان سے تھا جو طویل المیعاد ویزے پر بھارت میں کام کر رہا تھا۔

20 فروری، 2017

ریاست کیرالہ میں ایک فلمی اداکارہ نے الزام عائد کیا کہ رات کے وقت ایک فلم کی ڈبنگ کے لیے جاتے ہوئے تین افراد نے ان کی گاڑی روک کر انھیں گاڑی کے اندر ہی دو گھنٹے تک زیادتی کا نشانہ بنایا اور انھیں دھمکی دی کہ اگر انھوں نے کسی کو بتایا تو ان کے ریپ کی تصویریں سوشل میڈیا پر نشر کردی جائیں گی۔

14 مارچ، 2017

انڈیا کے دارالحکومت دلی میں پولیس نے نیپال کی ایک خاتون کے ساتھ ریپ کے معاملے میں پانچ افراد کو گرفتار کر لیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

اطلاعات کے مطابق یہ واقع دلی کے پانڈو نگر میں پیش آیا۔ ایک فلیٹ میں نیپالی خاتون کو جبراً شراب پلائی گئی۔ اس کے بعد پانچ لوگوں نے باری باری سے مبینہ طور پر ان کا ریپ کیا اور انھیں گھر میں بند کر کے فرار ہو گئے۔

اس کے بعد خاتون نے پہلی منزل کے اس فلیٹ سے نیچے چھلانگ لگا دی۔ اس کوشش میں ان کی ٹانگ ٹوٹ گئی۔

20 مئی، 2017

ریاست کیرالہ میں ایک 23 سالہ طالبہ نے اپنے گھر میں گھس کر آنے والے ایک مرد کا عضو کاٹ دیا جو انھیں ریپ کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔

طالبہ کے مطابق اس شخص نے دعویٰ کیا تھا کہ وہ مذہبی پیشوا ہے۔

پولیس نے کہا کہ ہری سوامی نامی اس مرد کو تشویش ناک حالت میں قریبی سرکاری ہسپتال لے جایا گیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

25 مئی 2017

دلی کے قریب مسلح افراد نے گاڑی سے سفر کرنے والے ایک خاندان کی چار خواتین کو مبینہ طور پر گینگ ریپ کا نشانہ بنا کر ان کے خاندان کے ایک فرد کو گولی مار کر ہلاک کر دیا۔

اطلاعات کے مطابق ملزمان نے ایک خاندان کی گاڑی کو زبردستی روکا اور مزاحمت کرنے پر ان افراد نے خاندان کے سربراہ شکیل کو گولی مار کر ہلاک کر دیا جس کے بعد مبینہ طور پر خاندان کی چار خواتین کا ریپ کیا۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں