’ہندو مسلمان دونوں ہمیں کاٹتے ہیں‘

دلتوں کے گھر
Image caption دلتوں کے جلے ہوئے گھر

'مسلمان ہمیں ہندو سمجھ کر کاٹتے ہیں، ہندو چمار سمجھ کر۔ ہم کٹتے ہی رہتے ہیں۔'

اتر پردیش کے سہارنپور میں شبيرپور گاؤں کے شیو راج کے ان الفاظ نے ہمیں ہلا کر رکھ دیا۔

انھوں نے ایسے ہی یہ بات نہیں کہی تھی۔ ان کے الفاظ میں مایوسی بھی تھی اور ناامیدی کا احساس بھی۔

شیو راج دلتوں کی زندگی جیتے جیتے ابھی تھک چکے ہیں۔ پانچ مئی کو گاؤں میں ہونے والے تشدد میں ان کے گھر کو آگ لگا دی گئی تھی۔ اس دوران انھیں پیٹا گیا۔ ان کی طرح 50 سے زائد دلت پڑوسیوں کے گھر بھی جلا دیے گئے۔

شیو راج گاؤں سے فرار ہونا چاہتے ہیں

تنازعے کا آغاز

ہوا یوں کہ پانچ مئی کو قریبی شملانا گاؤں میں مہارانا پرتاپ جینتی کی تقریب منعقد ہو رہی تھی۔

اس تقریب میں شامل ہونے کے لیے شبيرپور گاؤں سے کچھ ٹھاکر شوبھا سفر نکال رہے تھے۔ ٹھاکروں کا الزام ہے کہ دلتوں نے انھیں روک دیا اور پولیس بلائی گئی۔

تنازعے کا آغاز اسی واقعے سے ہوا۔

Image caption شیو راج گاؤں سے بھاگنا چاہتے ہیں

شیو راج ہوں یا ان کے پڑوسی سلسلہ سنگھ یا پھر شملہ دیوی، یہ تمام لوگ 60 سے اوپر کے ہیں لیکن ان کے مطابق انھوں نے اب تک شبيرپور میں خود کو اتنا غیر محفوظ کبھی محسوس نہیں کیا تھا۔

سہارنپور سے 25 کلومیٹر دور اس گاؤں کے دلتوں کے گھروں کے باہر بڑی تعداد میں پولیس اہلکار تعینات ہیں۔ جلے گرے گھروں کے آس پاس اسپیشل فورسز کی مکمل ڈیوٹی ہے۔

شملہ دیوی کا الزام ہے کہ ٹھاکروں نے ان کے گھر کو آگ لگائی۔

بہت سے گھروں کی چھتیں گری ہوئی ہیں۔ جو بچی ہیں اس پر چڑھ کر نیچے دیکھیں تو ہر طرف پولیس کی وردی نظر آتی ہے۔

اس کے باوجود شیو راج ڈرے ہوئے بھی ہیں اور بےحد ناراض بھی۔

وہ کہتے ہیں کہ سوال آج کے تشدد کا نہیں ہے۔ مسئلہ دلتوں کے خلاف تشدد اور تعصب کے بڑھنے کا ہے۔

شیو راج کہتے ہیں: 'ہم یہاں سے کہیں اور چلے جائیں گے اور اپنا مذہب تبدیل بھی کر سکتے ہیں۔'

بہت سے نوجوان دلت مرد گاؤں سے باہر رہ رہے ہیں۔ یہ کہنا مشکل تھا کہ وہ ڈر کی وجہ سے گاؤں چھوڑ کر گئے ہیں یا گرفتاری سے بچنے کی وجہ سے۔

Image caption شملا دیوی کا الزام ہے کہ ٹھاکروں نے ان کے گھر کو آگ لگائی

سپیشل ٹاسک فورس

شبيرپور میں جہاں دلتوں کا محلہ ختم ہوتا ہے وہیں سے راجپوتوں کے گھر شروع ہوتے ہیں۔

باہر والے لوگوں کو دونوں محلوں میں کوئی فرق نہیں محسوس ہو گا۔

اقتصادی طور پر دلتوں اور ٹھاکروں کی بستیاں اور گھر غریب لوگوں کے لگتے ہیں۔ ان کی شکلیں اور غذائیں بھی ایک جیسی ہے۔

ٹھاکروں والے محلے میں صرف اکا دکا پولیس والے ہی پہرے پر تھے۔ لیکن یہ ایک ظاہری فرق ہے۔

میں نے لکھنؤ سے آنے والے اترپردیش پولیس کی سپیشل ٹاسک فورس کے اعلیٰ افسر امیتابھ یش سے پوچھا کہ اس کا کیا مطلب نکالا جائے؟

بھاری تعداد میں فورس

امیتابھ یش نے کہا کہ دلتوں کی حفاظت کے لیے ان کے گھروں کے آگے بھاری تعداد میں فورس لگائی گئی ہے۔

میں نے کہا کہ اس کا مطلب یہ ہوا کہ دلت کمیونٹی متاثرہ ہے، اسی لیے انہیں تحفظ کی زیادہ ضرورت ہے، تو انھوں نے کہا میرا یہ خیال غلط ہے۔

سچ تو یہ ہے کہ اندر جانے پر نظر آیا کہ ٹھاکروں کے بھی بہت سے گھر جلے ہوئے تھے۔

اگر ایک دلت نوجوان کا قتل ہوا تھا تو تشدد میں رسول پور گاؤں کے ایک ٹھاکر نوجوان کو بھی پیٹ پیٹ کر مار ڈالا گیا تھا۔ ٹھاکروں کے گھروں میں بھی آگ لگائی گئی تھی۔

ایسے ہی ایک ٹھاکر خاندان کی خواتین مدھو نے کہا: 'ان سے میں نے کہا، بچے سیدھے اپنے گھروں کو لوٹ جاؤ، لیکن تین لوگ آئے اور گھر کے اندر آگ لگا دی۔'

Image caption شبیر پور کا ایک دلت گھر

بھیم آرمی

ٹھاکروں کے کئی نوجوانوں نے کہا کہ بھیم آرمی نے محلے میں کافی ہلچل مچائی تھی۔

ایک لڑکی ریکھا کہتی ہیں: 'وہ مایاوتی کے آنے کے وقت سڑکوں پر اپنے پرچم لہراتے ہوئے بھیم آرمی زندہ باد کے نعرے لگا رہے تھے۔'

بھیم آرمی کے بانی چندرشیکھر آزاد سمیت تنظیم کے کئی نوجوانوں کی پولیس کو تلاش ہے۔

بھیم آرمی کے 30 سے زائد کارکنوں کو گرفتار بھی کیا گیا۔ پولیس افسر امیتابھ یش اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ بھیم آرمی کا تشدد میں ہاتھ تھا۔

لیکن بھیم آرمی کے جتنے لوگوں سے ہم نے باتیں کیں وہ اس بات سے انکار کرتے ہیں کہ تشدد میں ان کا ہاتھ تھا۔

وہ تو یہ کہتے ہیں کہ بھیم آرمی دلت لوگوں کے اتحاد اور دلت نوجوانوں کی تعلیم کے لیے کام کرتی ہے۔

گاؤں کے دلت بزرگ سلسلہ سنگھ اور دوسرے متاثرہ دلت کہتے ہیں کہ آدتیہ ناتھ حکومت کے بننے کے بعد ٹھاکر اترانے لگے ہیں، خود کو طاقت ور ماننے لگے ہیں۔'

Image caption ٹھاکروں کے گھر بھی جلائے گئے: مدھو

بھیم آرمی کے لوگ جو خود کو وزیر اعظم مودی کا کچھ دن پہلے تک حامی کہتے تھے، اب بی جے پی حکومت سے مایوس ہیں۔

سہارنپور سے بی جے پی کے نوجوان رکنِ پارلیمان راگھو لكھنپال شرما کہتے ہیں کہ یہ تشدد ریاستی حکومت کے خلاف سازش ہے اور اشاروں میں وہ اس سازش کا الزام مایاوتی پر لگاتے ہیں۔

انھوں نے کہا: 'ایک سازش کے تحت اسے نسلی تشدد کا شکل دینے کی کوشش کی گئی۔ جن تنظیموں کے نام آ رہے تھے ان میں ایک سیاسی تنظیم بھی ہے۔ جن یہ لگ رہا تھا کہ ان کی کھوئی ہوئی زمین واپس لینی ہے۔ مجھے لگتا ہے ریاستی حکومت کو بدنام کرنے کی ایک سازش ہے اور اس سازش کا پردہ جلد ہی فاش کریں گے۔ '

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں