جب برا وقت آتا ہے تو دماغ کام کرنا چھوڑ دیتا ہے: عظمیٰ احمد

عظمی احمد

پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں انڈین ہائی کمیشن میں پناہ لینے والی انڈین لڑکی عظمیٰ احمد کا کہنا ہے کہ وہ پاکستان گھومنے گئی تھیں اور جہاں تک شادی کا تعلق ہے تو ان کے ’ذہن میں ایسا کچھ نہیں تھا کہ ہم لوگ اتنی جلدی کچھ کر لیں گے۔‘

عظمیٰ کا الزام ہے کہ خیبرپختونخوا کے شہر بونیر کے شہری محمد طاہر نے ان سے زبردستی شادی کر لی تھی جس کے بعد انھیں اپنی جان بچانے کے لیے اسلام آباد میں انڈیا کے ہائی کمیشن میں پناہ لینا پڑی۔ اب وہ دونوں ممالک کی حکومتوں کی مداخلت کے بعد انڈیا لوٹ آئی ہیں۔

پاکستان کی مدد کے بغیر آج ہماری بیٹی یہاں نہ ہوتی: انڈین وزیر خارجہ

'آج راحت کا سانس لیا کہ میری بچی واپس لوٹ آئی'

'ڈاکٹر' عظمیٰ کون ہیں؟

میرے ساتھ زبردستی ہوئی ہے، واپس نہیں جاؤں گی: ڈاکٹر عظمیٰ

نئی دہلی میں بی بی سی اردو کے ساتھ فیس بک لائیو میں پوچھے جانے پر سوال پر کہ کیا پاکستان جاتے وقت ان کے ذہن میں ایسا کوئی خیال تھا کہ اگر بات بن جاتی ہے تو شادی کی جاسکتی ہے؟

عظمی احمد کا کہنا تھا ’شادی کا تو ایسا کچھ تھا نہیں کہ ہم اتنی جلدی ایسا کچھ کر لیں گے، ابھی تو بس یہ تھا کہ پاکستان جا کر دیکھتے ہیں، سنگاپور دیکھ لیا، ملائیشیا دیکھ لیا تو ا گر پاکستان کو اتنا خوبصورت بتایا جا رہا ہے تو ایک بار دیکھنے میں کیا حرج ہے۔‘

اس سوال کے جواب میں کہ اگر وہ صرف گھومنے گئی تھیں تو ایک دوسرے کی فیملی کےبارے میں معلومات کا تبادلہ کیوں ہو رہا تھا؟ اور انھوں نے طاہر سے ایک پیغام میں یہ کیوں کہا کہ اگر ان کے بھائی کا فون آئے تو انھیں اپنے بچوں کے بارے میں نہ بتائیں، اگر مقصد صرف گھومنا تھا تو یہ بات چیت ہو ہی کیوں رہی تھی؟

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

عظمیٰ نے جواب دیا کہ ’یہ بات چیت اس لیے چل رہی تھی کہ معمول کے مطابق یہ بات ہو رہی تھی کہ مستقبل میں ہم کیا کریں گے؟ آپ بار بار ایک ہی بات پوچھ رہے ہیں اور میں وہی جواب دے رہی ہوں کہ فی الحال میں صرف گھومنے کے لیے گئی تھی، بس، وہ مستقبل کی بات تھی کہ مستقبل میں کیا ہوگا؟‘

عظمیٰ احمد نے بھی کہا کہ وہ پاکستان جانے سے پہلے طاہر سے ملائشیا میں صرف تین چار مرتبہ ملی تھیں اور دونوں کی کوئی خاص دوستی نہیں تھی۔

یہ پوچھے جانے پر کہ اگر دوستی نہیں تھی وہ طاہر کی دعوت پر پاکستان کیوں گئیں، انھوں نے کہا ’جب برا وقت آتا ہے تو دماغ کام کرنا چھوڑ دیتا ہے۔‘

جمعرات کو انڈیا پہنچنے پر انھوں نے انڈین وزیر خارجہ سشما سوراج کے ساتھ ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا ’پاکستان ایک موت کا کنواں ہے اور وہاں کسی کو نہیں جانا چاہیے۔‘

اس پریس کانفرنس کے بعد سشما سوراج نے کہا تھا کہ عظمیٰ کو واپس انڈیا بھیجنے میں پاکستان کی وزارتِ خارجہ اور داخلہ نے بہت تعاون کیا تھا۔

انھوں نے عظمی کا کیس لڑنے والے وکیل، مقدمے کی سماعت کرنے والے جج اور حکومت پاکستان کا شکریہ بھی ادا کیا تھا۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں