برہان وانی کے ساتھی ہلاک، کشمیر میں کشیدگی

سبزار بٹ

انڈیا کے زیر انتظام کشمیر کے جنوبی قصبہ ترال میں طویل محاصرے کے دوران شدت پسندوں اور فورسز کے درمیان تصادم میں حزب المجاہدین کے اعلی کمانڈر سبزار بھٹ ہلاک ہو گئے ہیں۔

پولیس ذرائع نے بتایا کہ کہ ان کے ہمراہ عادل اور فیضان نامی مزید دو شدت پسند بھی مارے گئے۔ سبزار گذشتہ گرما میں مارے جانے والے نوجوان برہان وانی کے قریبی ساتھیوں میں سے تھے۔

جنوبی کشمیر میں پھر جھڑپ، حالات کشیدہ

کشمیر: محصور شدت پسندوں کو ’بچاتے ہوئے‘ تین نوجوان ہلاک

آٹھ جولائی سنہ 2016 کو برہان وانی کی ہلاکت کے بعد کشمیر میں وسیع پیمانے پر عوامی تحریک شروع ہوئی جسے دبانے کی سرکاری کاروائیوں میں کم از کم 100 افراد مارے جا چکے ہیں جبکہ ہزاروں گولیوں اور چھروں سے زخمی ہوگئے ہیں۔

سبزار کی ہلاکت کی خبر عام ہوتے ہی کشمیر کے بیشتر قصبوں میں ہڑتال کر دی گئی اور طلبہ نے تعلیمی اداروں میں مظاہرے کیے۔ ترال میں جھڑپ کی جگہ کے قریب پہلے ہی ہزاروں لوگ مظاہرے کر رہے تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ YOUTUBE

پولیس کا کہنا ہے کہ گذشتہ برس برہان وانی کی ہلاکت کے بعد درجنوں نوجوانوں نے مسلح گروپوں حزب المجاہدین اور لشکر طیبہ میں شمولیت اختیار کرلی ہے۔

برہان وانی کے بعد حزب کی کمان انجنئیرنگ گریجویٹ ذاکر موسی کے ہاتھ میں ہے، تاہم سبزار بھٹ گروپ کے اہم کمانڈر تھے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ ان کے ساتھ مارے گئے فیضان کی عمر صرف 17 سال ہے اور انھوں نے گذشتہ مارچ میں ایک نیم فوجی اہلکار سے رائفل چھین لی تھی۔

واضح رہے ماہ رمضان کی آمد پر جمعے کی شب سوشل میڈیا پر ایک ماہ سے جاری پابندی کو ہٹایا گیا تھا تاہم بعض سرکاری ذرائع کا کہنا ہے کہ سبزار بٹ کی ہلاکت کے بعد اگر مظاہروں کا دائرہ وسیع ہوگیا تو انٹرنیٹ اور فون سروسز کو معطل کیا جا سکتا ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں