سبزار بھٹ کی ہلاکت پر سوشل میڈیا میں بحث، برہان وانی دوبارہ خبروں میں

تصویر کے کاپی رائٹ TWITTER

انڈیا کے زیر انتظام کشمیر کے جنوبی قصبہ ترال میں شدت پسندوں اور فورسز کے درمیان تصادم میں حزب المجاہدین کے اعلی کمانڈر اور گذشتہ برس ہلاک ہونے والے نوجوان برہانی وانی کے قریبی ساتھی سبزار بھٹ ہلاک ہوگئے ہیں۔ ان کی ہلاکت کے بعد کشمیر میں حالات ایک مرتبہ پھر کشیدہ ہو گئے ہیں۔

ان کی ہلاکت کی خبر سامنے آنے کے فوراً بعد سوشل میڈیا پر ان کی موت کے متعلق چرچا ہونے لگا۔ زیادہ تر صارفین نے ٹوئٹر پر ان کو برہانی وانی کا دوست بتاتے ہوئے ان کی موت کا ذکر کیا۔

#sabzarbhat کے نام سے ہیش ٹیگ فوراً ٹرینڈ کرنے لگا۔

ٹویٹس میں اس بات پر بھی بحث ہوتی رہی کہ سبزار کی لاش ان کے گھر والوں کو واپس دی جانی چاہیے یا نہیں۔ کسی نے کہا کہ امریکیوں سے سیکھیں انھوں نے اسامہ بن لادن کی لاش سمندر میں پھینک دی تھی تو کسی دوسرے نے کہا کہ اسے جلا دیں۔

ایک سابق میجر نے بھارتی فوجیوں کو سبزار بھٹ کو ہلاک کرنے پر مبارکباد دیتے ہوئے اپنے ٹوئٹر صفحے پر برہان وانی اور سبزار بھٹ کی تصویر بھی شائع کی۔

ایک ٹوئٹر یوزر سونم مہاجن نے لکھا کہ ’چھ دہشت گرد ہلاک کر دیے گئے۔ یہ رمضان کا بہت اچھا آغاز ہے۔‘

کئی ایک ٹویٹ میں پاکستان اور انڈیا کے درمیان امن کی بات کرنے والے یا کشمیریوں کے ساتھ ڈائیلاگ کی بات کرنے والی صحافیوں کو بھی نشانہ بنایا گیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ TWITTER

ایک یوزر جینی خان نے لکھا کہ پھتر پھینکنے والے خبردار ہو جائیں۔ میجر گوگوئی مقابلے کے مقام پر پہنچ گئے ہیں۔

جب 'گریٹ بنگالی' نام کے ایک یوزر نے ٹویٹ کیا کہ اس بات کی تحقیقات ہونی چاہئیں کہ سبزار بھٹ کو کس طرح ہلاک کیا گیا تو ایک دوسرے یوزر نے لکھا کہ 'گریٹ بنگالی' کو سبزار بھٹ اور برہان وانی کی موت کا پاکستان سے زیادہ غم ہے۔

سوشل میڈیا پر یہ بھی چرچا ہوتا رہا کہ سبزار بھٹ ایک سکول ہیڈ ماسٹر کے بیٹے تھے۔