افغانستان: خوست میں رمضان کے پہلے دن ہونے والے خود کش حملے میں 13 ہلاک

خوست تصویر کے کاپی رائٹ iStock
Image caption سنیچر کو ہونے والا دھماکہ ایسے وقت میں ہوا جب ملک میں اسلامی مہینے رمضان کا پہلا دن ہے

افغانستان کے مشرقی شہر خوست میں حکام کے مطابق ایک خودکش کار حملے میں کم از کم 13 افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔

افغان وزارت اطلاعات کے مطابق دھماکے میں زخمی ہونے والوں میں دو بچے بھی شامل ہیں۔

حملہ آوروں نے خوست شہر کے مرکزی علاقے میں پولیس کی گاڑیوں کو نشانہ بنایا۔ کسی گروہ یا فرد نے اس حملے کی ذمہ داری قبول نہیں تاہم ماضی میں افغان طالبان اور شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ کی جانب سے اس قسم کی کارروائیاں کی جاتی رہی ہیں۔

خیال رہے کہ حالیہ دنوں میں افغانستان کے کئی حصوں میں پرتشدد کارروائیوں میں اضافہ ہوا ہے جن میں سے بیشتر میں افغان طالبان ملوث رہے ہیں۔

جمعے کو صوبہ قندھار میں ایک فوجی اڈے پر طالبان کے حملے میں کم از کم 15 فوجی ہلاک ہو گئے تھے۔

سنیچر کو ہونے والا دھماکہ ایسے وقت میں ہوا جب ملک میں اسلامی مہینے رمضان کا پہلا دن ہے۔

حکام کے مطابق یہ حملہ ایک فوجی اڈے کے قریب کیا گیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption حالیہ دنوں میں افغانستان کے کئی حصوں میں پرتشدد کارروائیوں میں اضافہ ہوا ہے

افغان وزارت اطلاعات کے ترجمان نجیب دانش نے خبررساں ادارے ایف پی کو بتایا کہ دھماکے میں بس اڈے کو سب سے زیادہ نقصان پہنچا۔ اس حملے میں افغان سکیورٹی فورسز کو نشانہ بنایا گیا جو صوبہ خوست میں امریکی فوجیوں کے ساتھ کام کر رہی ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ لاشیں ناقابل شناخت ہیں اورر یہ کہنا مشکل ہے کہ ہلاک ہونے والے عام شہری ہیں یا سکیورٹی اہلکار۔

گذشتہ ماہ طالبان نے شمالی شہر مزارشریف میں ایک فوجی کمپاؤنڈ پر حملہ کر کے کم از کم 135 افغان فوجیوں کو ہلاک کر دیا تھا۔

واضح رہے کہ سنہ 2014 میں افغان طالبان کے خلاف امریکہ نے اپنی فوجی کارروائیاں ختم کر دی تھیں تاہم افغان فوج کی مدد کے لیے اس کے خصوصی دستے تاحال تعینات ہیں۔

ایک اندازے کے مطابق گذشتہ دو برسوں میں ملک کے ایک تہائی حصے پر افغان طالبان کا کنٹرول سمجھا جاتا ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں