برہان وانی کے ساتھی سبزار بھٹ کی ہلاکت، کشمیر میں حالات پھر کشیدہ

کشمیر تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption سبزار بھٹ کی ہلاکت کی خبر عام ہوتے ہی کشمیر کے بیشتر قصبوں میں ہڑتال کر دی گئی

انڈیا کے زیر انتظام کشمیر کےجنوبی قصبے ترال میں سیکورٹی فورسز کے ساتھ فائرنگ کے تبادلے میں تین شدت پسندوں اور ایک عام شہری کی ہلاکت کے بعد کشمیر میں کئی مقامات پر احتجاج اور سیکورٹی فورسز سے جھڑپوں کی اطلاعات ہیں۔

ان جھڑپوں میں کم از کم دس افراد کے زخمی ہونے کی اطلاع ہے۔

برہان وانی کے ساتھی ہلاک، کشمیر میں کشیدگی

سبزار بھٹ کی ہلاکت اور سوشل میڈیا

’ہمیں نہ انڈیا چاہیے، نہ ہی پاکستان‘

سرینگر میں بچے کی ہلاکت کے بعد کشیدگی میں اضافہ

ترال میں طویل محاصرے کے دوران شدت پسندوں اور فورسز کے درمیان تصادم میں حزب المجاہدین کے اعلیٰ کمانڈر سبزار بھٹ ہلاک ہو گئے تھے۔

ترال سے 42 کلومیٹر دور سری نگر میں کرفیو جیسی پابندیاں لگا دی گئی ہیں اور انٹرنیٹ سروس بھی معطل کر دی گئی ہے۔

دوسری جانب علیحدگی پسند تنظیم حریت نے دو دنوں کی ہڑتال کی کال دی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Youtube
Image caption سبزار گذشتہ گرما میں مارے جانے والے نوجوان برہان وانی کے قریبی ساتھیوں میں سے تھے

پولیس ذرائع نے بتایا کہ ان کے ہمراہ عادل اور فیضان نامی مزید دو شدت پسند بھی مارے گئے۔ سبزار گذشتہ سال مارے جانے والے نوجوان برہان وانی کے قریبی ساتھیوں میں سے تھے۔

سبزار بھٹ کی ہلاکت کی خبر عام ہوتے ہی کشمیر کے بیشتر قصبوں میں ہڑتال کر دی گئی اور طلبہ نے تعلیمی اداروں میں مظاہرے کیے۔ ترال میں جھڑپ کی جگہ کے قریب پہلے ہی ہزاروں لوگ مظاہرے کر رہے تھے۔

سبزار بھٹ برہان وانی کے خاصے قریبی سمجھے جاتے تھے اور برہان وانی کی موت کے بعد انھوں نے اس عسکریت پسند تنظیم میں ان کی جگہ لی تھی۔

اس آپریشن میں ایک عام شہری بھی ہلاک ہوئی ہے، جن کی شناخت مولوی عاقب احمد کے طور پر ہوئی ہے۔

انڈین پولیس کے مطابق، دونوں طرف سے ہونے والی اس فائرنگ میں ایک شہری بھی زخمی ہو گیا جسے ترال ہسپتال لے جایا گیا، جہاں اس کی موت ہوگئی۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

پولیس کی پریس ریلیز میں کہا گیا ہے کہ 'بیتی شام سوئی موہ، ترال کے علاقے میں شدت پسندوں نے فوج کے 42 راشٹریا رائفل کی گاڑی پر فائرنگ کی، جس کی جوابی فائرنگ کے بعد شدت پسند آس پاس کے مکانات میں چھپ گئے۔ اس کے بعد 42 آر آر رائفل، اونتي پورا پولیس اور سی آر پی ایف نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا اور ایک مشترکہ سرچ آپریشن کیا۔ اس کے بعد دونوں طرف سے فائرنگ میں حزب مجاہدین کے دو شدت پسند سبزار احمد بھٹ اور فیضان مظفر مارے گئے۔'

خیال رہے کہ 2015 میں برہان وانی کی اپنے ساتھیوں کے ساتھ جس میں ویڈیو سامنے آئی تھی، اس میں سبزار بھی دکھائی دے رہے تھے۔

آٹھ جولائی سنہ 2016 کو برہان وانی کی ہلاکت کے بعد کشمیر میں وسیع پیمانے پر عوامی تحریک شروع ہوئی جسے دبانے کی سرکاری کاروائیوں میں کم از کم 100 افراد مارے جا چکے ہیں جبکہ ہزاروں گولیوں اور چھروں سے زخمی ہوگئے ہیں۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں