کشمیر میں ایمبولینس کے سائرن سے رمضان کی شروعات

کشمیر تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption کشمیر کے پلوامہ کے گاؤں ترال میں ہلاکتوں کے خلاف مظاہرے ہوئے ہیں

انڈیا کے زیرانتظام کشمیر میں ماہ رمضان کی شروعات کرفیو، مواصلاتی پابندیوں اور ایمبولینس گاڑیوں کے سائرن سے ہوئی ہے۔

خیال رہے کہ ہفتے کی صبح جنوبی قصبہ ترال میں مسلح تصادم کے دوران حزب المجاہدین کے اعلی کمانڈر سبزار بٹ کی ان کے ساتھی سمیت ہلاکت کے بعد جگہ جگہ مظاہرے ہوئے تھے۔

اس سے قبل ترال کے 'سوئی مُو' گاؤں میں محصور سبزار اور اس کے ساتھیوں کو 'بچانے' کے لیے مقامی لوگوں نے مظاہرے کیے تھے۔

برہان وانی کے ساتھی ہلاک، کشمیر میں کشیدگی

سبزار بھٹ کی ہلاکت اور سوشل میڈیا

مظاہرین پر فورسز کی فائرنگ کے نتیجے میں کئی افراد زخمی ہوئے جن میں سے ایک نوجوان کی موت ہو گئی جبکہ تین کی حالات نازک ہے۔

سرینگر کی شاہراہوں پر رات بھر ایمبولینس گاڑیوں کے سائرن بجتے رہے جس کی وجہ سے ہر طرف خوف کی فضا طاری ہے۔

ہسپتال ذرائع کے مطابق سنیچر کو ہونے والے مظاہروں کے خلاف فورسز کی کاروائیوں کے دوران 40 سے زیادہ افراد زخمی ہو گئے ہیں جن میں 12 سیکورٹی اہلکار بھی شامل ہیں۔ زخمیوں میں سے آٹھ افراد کو گولیاں لگی ہیں جبکہ سات چھروں سے زخمی ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ youtube
Image caption برہان وانی کی طرح سبزار بٹ کی نماز جنازہ میں ہزاروں کی تعداد میں لوگوں نے شرکت کی جبکہ کئی جگہ غائبان نماز بھی ادا کی گئی

دریں اثنا حکومت نے موبائل فون رابطوں، انٹرنیٹ، عوامی نقل و حرکت اور اجتماعات پر پابندی عائد کر دی ہے۔

سرینگر کے بیشتر علاقوں میں سخت کرفیو ہے جبکہ وادی کے تجارتی مرکز لال چوک کو سیل کردیا گیا۔

ترال میں اتوار کو پولیس اہلکاروں کی بھاری تعداد میں تعیناتی کے دوران سبزار بٹ کو اپنے گاوں رٹھ سونا میں دفن کیا گیا۔ ان کے جنازے میں ہزاروں لوگوں نے شرکت کی۔ اس سے قبل سرینگر سمیت کئی مقامات پر سبزار کے حق میں غائبانہ نماز جنازہ پڑھی گئی۔

سبزار بٹ گذشتہ برس جولائی میں مارے گئے مقبول کمانڈر برہان وانی کے قریبی ساتھیوں میں سے تھے۔

برہان وانی کی ہلاکت کے بعد پورا کشمیر کئی ماہ تک کشیدہ رہا اور مظاہرین کے خلاف سرکاری کاروائیوں میں تقریباً 100 نوجوان مارے گئے جبکہ دس ہزار سے زیادہ گولیوں اور چھروں سے زخمی ہوئے۔

سید علی گیلانی، یاسین ملک اور میر واعظ عمر فاروق کے متحدہ مزاحمتی فورم نے ان ہلاکتوں کے خلاف اتوار اور پیر کو ہڑتال کی اپیل کی ہے جبکہ منگل کو ترال میں تعزیتی اجتماع کا اعلان کیا گیا ہے۔

تینوں رہنماوں نے ایک مشترکہ بیان میں کہا کہ تعلیم یافتہ نوجوانوں کو پولیس مختلف بہانوں سے گرفتار کرتی ہے اور جیلوں میں ان پر ٹارچر کیا جاتا ہے جس کے بعد وہ ہتھیار اُٹھانے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption پولیس نے مظاہرین کے خلاف اشک آور گیس کا استعمال کیا اور وہاں فی الحال کرفیو نافذ ہے

پولیس کا کہنا ہے کہ گذشتہ برس برہان کی ہلاکت کے بعد درجنوں نوجوانوں نے مسلح گروپوں حزب المجاہدین اور لشکر طیبہ میں شمولیت اختیار کرلی ہے۔

برہان وانی کے بعد حزب کی کمان انجنئیرنگ گریجویٹ ذاکر موسی کے ہاتھ میں ہے، تاہم سبزار بٹ گروپ کے اہم کمانڈر تھے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ ان کے ساتھ مارے گئے فیضان کی عمر صرف 17 سال ہے اور انھوں نے گذشتہ مارچ میں ایک نیم فوجی اہلکار سے رائفل چھین لی تھی۔

گذشتہ کئی ہفتوں سے سیاسی اور سماجی حلقوں سے یہ اپیلیں کی جا رہی تھیں کہ رمضان کے مہینے کے دوران کشمیر میں امن کو یقینی بنایا جائے تاہم ہفتے کی صبح جب سبزار کی ہلاکت کا انکشاف ہوا تو کشمیر پھر سے اُبل پڑا۔

رمضان کے پہلے روزے کے لیے لوگ کسی سحرخوان کی دستک سے نہیں بلکہ ایمبولینس گاڑیوں کی سائرن سے جاگے کیونکہ رات بھر مضافاتی ہسپتالوں سے زخمیوں کو سرینگر کے ہسپتالوں میں منتقل کیا جا رہا تھا۔

حکومت نے سکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں میں بدھ تک تعطیل کا اعلان کیا ہے جبکہ امتحانات اور سرکاری اسامیوں کے لیے مجوزہ انٹرویوز بھی ملتوی کردیے گئے ہیں۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں