سری لنکا میں سیلاب سے تباہی، ہلاکتوں کی تعداد 146، درجنوں لاپتہ

یہ گزشتہ چودہ برسوں کے بعد سب سے بڑا سیلاب ہے تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption حکام کا کہنا ہے کہ 112 لوگ اب بھی لاپتہ ہیں

سری لنکا میں جمعے کو آنے والے طوفان کے بعد اب مزید بارشوں کی پیشنگوئی کی گئی ہے جس کے بعد متاثرہ علاقوں میں امدادی ٹیمیں پہنچ گئی ہیں۔

اتوار کو سیلابی پانی میں کمی دیکھی گئی تاہم بہت سے دیہات میں اب بھی لوگ پھنسے ہوئے ہیں۔

جمعے سے شروع ہونے والے تیز بارشوں کی وجہ سے علاقے میں سیلابی ریلے آئے جس سے اب تک 146 لوگ ہلاک اور پچاس ہزار سے زائد کو نکل مکانی پر مجبور ہوئے۔

حکام کا کہنا ہے کہ 112 لوگ اب بھی لاپتہ ہیں اور مدد کے لیے فوجی کشتیاں اور ہیلی کاپٹر بھیجے گئے ہیں۔

سری لنکا کے اخبار ڈیلی مرر میں شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق انڈین نیوی کا دوسرا بحری جہاز آئی این ایس شاردل امدادی اشیا اور چھوٹی کشتیاں لے کر کولمبو پہنچ گیا ہے۔

پہلا بھارتی بحری جہاز آئی این ایس کرچ سنیچر کو پہنچا تھا۔ نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ امدادی ٹیمیں بارش رکنے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے دور دراز علاقوں میں امداد پہنچا رہی ہیں۔

کہا جارہا ہے کہ یہ گذشتہ 14 برسوں کے بعد سب سے بڑا سیلاب ہے۔ اس سے پہلے مئی 2003 میں شدید بارشوں کی وجہ سے 250 لوگ ہلاک اور دس ہزار گھر تباہ ہوگئے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption کلوٹرا ضلع میں ہزاروں کی تعداد میں لوگ بے گھر ہوگئے ہیں اور بنیادی سہولیات سے محروم ہیں۔

بی بی سی نے کلوٹرا ضلع کے ویانگلا گاؤں کا دورہ کیا جہاں جمعے کو آنے والے سیلاب کے بعد یہ گاؤں ڈوب گیا ہے۔ گھر، عبادت گاہیں، سکول اور دکانیں سب کچھ پانی کی نظر ہوگئے ہیں۔

صرف اس ضلع میں پچاس سے زائد لوگ ہلاک ہوئے ہیں۔ سڑکیں بھی ڈوب گئی ہیں اور رہائشی امدادی سامان اور اپنے گھروں کو جانے کے لیے کشتیوں کا استعمال کررہے ہیں، یہاں ہزاروں کی تعداد میں لوگ بے گھر ہوگئے ہیں اور بنیادی سہولیات سے محروم ہیں۔

علاقے میں شدید سیلاب سے علاوہ مٹی کا تودہ گرنے سے سات لوگ ہلاک ہوگئے ہیں جن میں سے چھ بچے تھے۔ حکام کے مطابق پانی کی سطع میں آہستہ آہستہ کمی دیکھنے کو آرہی ہے تاہم پیر کو مزید بارش کی پیشنگوئی کے بعد رہائشی خوفزدہ ہیں۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں