’اب فوج آگئی ہے، سب ٹھیک ہو جائے گا‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

بات ذرا پرانی ہے، 30 سال گزر چکے ہیں، اتر پردیش کا میرٹھ شہر فرقہ وارانہ فسادات کی زد میں تھا۔ ہاشم پورہ اور ملیانا کی خونریزی تاریخ کا حصہ بن رہی تھی، دلی کے قریب ہنڈن نہر کے میلے پانی سے درجنوں مسلمان نوجوانوں کی لاشیں نکالی جاچکی تھیں۔ لیکن اس سب کے باوجود گلی محلوں میں خوفزدہ مسلمانوں کی زبانوں پر بس ایک ہی بات تھی: اگر فوج طلب نہ کی جاتی تو کیا ہوتا؟

کچھ تو میں اب بھول گیا ہوں، لیکن کافی کچھ ابھی یاد ہے۔ فوج کے جوان شہر کے سب سے زیادہ متاثرہ گنجان علاقوں میں فلیگ مارچ کرتے تو لوگوں کا اعتماد بحال ہوتا، ان کی ہمت بندھ جاتی، فوج پر لوگوں کو بھروسہ تھا، پرووِنشیل آرمڈ کانسٹیبلری (پی اے سی) پر نہیں۔

پی اے سی اور مقامی پولیس کو لوگ ’ہندو‘ مانتے تھے اور فوج کو سیکولر۔ مجھے اس لیے معلوم ہے کیونکہ میں وہاں تھا، ہم فوج کا انتظار کرتے تھے اور سب کو لگتا تھا کہ اب فوج آگئی ہے، سب ٹھیک ہو جائے گا!

لیکن یہ مئی 1987 کی بات ہے۔ ہاشم پورہ اور ملیانا کی یادیں اب ذرا دھندلی پڑ گئی ہیں۔

سنہ 2017 کی مئی کو بھی بھلانا مشکل ہوگا۔ فوج کے ایک میجر نے کشمیر میں ایک نوجوان کو اپنی جیپ کے بانٹ سے باندھ کر گھمایا، اسے انسانی ڈھال کی طرح استعمال کیا، میجر کا دعویٰ ہے کہ وہ انتخابی عملے اور اپنے جوانوں کی جانیں بچا رہے تھے۔ دوسرا نظریہ یہ ہے کہ اس نوجوان کے انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہوئی ہے اور فوج کو میجر کے خلاف کارروائی کرنی چاہیے۔

لیکن فوج کے سربراہ جنرل بپن راوت نے اس میجر کو ایک فوجی اعزاز سے نوازا ہے اور اب ایک غیر معمولی انٹرویو میں کہا ہے کہ کشمیر میں فوج ایک ’گندی جنگ‘ لڑ رہی ہے اور اسے ’انوویٹو‘ یا غیر روایتی طریقوں کا سہارا لینا ہوگا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Twitter

انھوں نے بنیادی طور پر تین چار اہم باتیں کہی ہیں جن پر بحث شروع ہوگئی ہے اور آسانی سے ختم نہیں ہوگی کیونکہ ان کے بیانات سے فوج کو یہ اشارہ ملتا ہے کہ اس کی اعلیٰ قیادت کن خطوط پر سوچ رہی ہے۔

میجر کا دفاع کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ: ’انھیں کس بات کی سزا دیں؟‘

میجر کے خلاف انکوائری مکمل ہونے سے قبل ہی انھیں اعزاز دینے کا مقصد نوجوان افسران کا حوصلہ بلند کرنا تھا جو مشکل حالات میں کام کر رہے ہیں۔

’لوگ ہمارے اوپر پتھر، پیٹرول بم بھینک رہے ہیں۔ کیا میں ان سے (اپنے افسران سے) کہوں کہ وہ مرنے کا انتظار کریں؟‘

اور یہ کہ ’کاش یہ لوگ ہمارے اوپر فائرنگ کر رہے ہوتے، تو مجھے خوشی ہوتی۔ پھر ہم جو چاہتے کر سکتے تھے۔ ملک میں دشمنوں کو بھی اور عام لوگوں کو بھی فوج سے ڈرنا چاہیے۔‘

اس انٹرویو پر اخبار ہندوستان ٹائمز نے اپنے اداریے میں لکھا ہے کہ ’جنرل کا نظریہ غلط ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ PIB

اخبار کے مطابق جنرل راوت کے اس بیان سے جوانوں کا حوصلہ بلند ہونے کے بجائے فوج کی شبیہہ کو نقصان پہنچے گا اور وادی کی صورتحال مزید خراب ہوگی۔

اخبار نے یہ بھی لکھا ہے کہ اس ایک افسر کا دفاع کرنا جس نے بظاہر انسانی حقوق کی خلاف ورزی کی ہے، احتیاط برتنے والے ان ہزاروں افسران کو یہ پیغام دینے کے مترادف ہے کہ ان کی احتیاط غیر ضروری ہے۔

’سینا ٹھوکنے والے کاغذی قوم پرستوں کی بات الگ ہے، لیکن فوج کے سربراہ کی جانب سے اس پیغام کے خطرناک مضمرات ہو سکتے ہیں۔‘

جنرل راوت کا بیان پڑھ کر ہاشم پورہ اور ملیانا کی خونریزی یاد آگئی۔ پہلے جب لوگ ڈرتے تھے تو فوج کا انتظار کرتے تھے، اب بظاہر پیغام ذرا مختلف ہے۔

سیاسی مبصر پرتاپ بھانو مہتا کا کہنا ہے کہ فوج کو سامنے سے پتھر پھینکنے والے ہجوم کے مقابلے میں (فوج کے) پیچھے کھڑے ہوکر نعرے لگانے والے ہجوم سے خطرہ زیادہ ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں