’دشمن کے ساتھ کرکٹ نہیں کھیلیں گے‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption پاکستان اور افغانستان کے کرکٹ بورڈز نے گذشتہ ہفتے لاہور میں اعلان کیا تھا کہ دونوں ممالک کی کرکٹ ٹیموں کے درمیان دو ٹی ٹوئنٹی میچ ہوں گے، جن میں سے ایک کابل اور دوسرا لاہور میں کھیلا جائے گا۔

افغانستان کرکٹ بورڈ کے ترجمان فرید ہوتک نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا ہے کہ ’افغان کرکٹ بورڈ کا پاکستان کے ساتھ میچز کھیلنے کا اب تک کوئی معاہدہ نہیں ہوا ہے اور اگر ایسا کوئی معاہدہ ہوگا تو سب سے پہلے افغان عوام کے خواہشات کو مدنظر رکھ کر کیا جائے گا۔‘

یاد رہے کہ فرید ہوتک نے یہ بیان ایک ایسے وقت پر دیا ہے جب سوشل میڈیا پر ’نو کرکٹ ود پاکستان‘ کا ایک ٹرینڈ شروع ہوا جس میں پاکستان کے ساتھ کرکٹ میچز کھیلنے کے اعلان پر افغانستان کرکٹ بورڈ کے چئیرمین عاطف مشعل پر شدید تنقید کی جا رہی ہے اور بعض صارفین نے یہاں تک لکھا ہے کہ کرکٹ میچز دوست ممالک کے ساتھ کھیلے جاتے ہیں، دشمنوں کے ساتھ نہیں۔

پاکستان اور افغانستان کے درمیان کرکٹ سیریز زیرغور

واضح رہے کہ پاکستان اور افغانستان کے کرکٹ بورڈز نے گذشتہ ہفتے لاہور میں ایک پریس کانفرنس میں اعلان کیا تھا کہ دونوں ممالک کی کرکٹ ٹیموں کے درمیان دو ٹی ٹوئنٹی میچ ہوں گے، جن میں سے ایک کابل اور دوسرا لاہور میں کھیلا جائے گا۔

پی سی بی کی جانب سے گذشتہ سنیچر کو جاری کردہ ایک بیان کے مطابق افغانستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین شکراللہ عاطف مشال نے چیئرمین پی سی بی شہریار خان اور چیئرمین ایگزیکٹیو کمیٹی پی سی بی نجم سیٹھی سے لاہور میں ملاقات کی تھی اور دونوں ممالک کے کرکٹ بورڈز کے درمیان مستقبل میں تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا گیا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Twitter

سوشل میڈیا پر افغانستان میں اکثر صارفین نے اسلام آباد میں متعین افغان سفیر ڈاکٹر حضرت عمر زاخیلوال کو بھی اس لیے شدید تنقید کا نشانہ بنایا کہ اُنھوں نے افغان کرکٹ بورڈ کے چئیرمین عاطف مشعل کی میزبانی کی تصویریں اپنے فیس بک پیج پر شیئر کیں۔ بعد میں افغان سفیر نے یہ تصویریں اور پاک افغان کرکٹ کے حق میں اپنا فیس بک سٹیٹس ڈیلیٹ کر دیا تھا۔

مجید قرار کے نام سے ایک صارف نے افغان سفیر ڈاکٹر حضرت عمر زاخیلوال کو مخاطب کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ’جب آپ نے اپنی پوسٹ ڈیلیٹ کرلی، اب پاکستان کے ساتھ ٹی ٹوئنٹی میچز معاہدے کو بھی ختم کرلیں۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Facebook

سہیل نصرت کے نام سے ایک فیس بک صارف نے لکھا ہے کہ ’یقین کیجیے گا، اگر افغانستان نے پاکستان سے میچ جیت لیا، تو بدلے میں ایک خودکش دھماکہ پاکستان کی طرف سے تحفے میں ملے گا۔‘

افغانستان میں اب یہ تاثر عام ہے کہ وہاں پر ہونے والے خودکش حملوں کا ذمہ دار پاکستان ہے۔

عبدالحمید عثمانی کے نام سے ایک صارف خوست میں پہلے رمضان کو ہونے والے خودکش حملے کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ ’ہم نے ابھی خوست میں شہید ہونے والوں کی میتیں نہیں دفنائی ہیں اور آپ لوگوں نے قاتل کے ساتھ میچز اور میلوں کے معاہدے کیے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Facebook
تصویر کے کاپی رائٹ Facebook

اسلام آباد اور کابل کے درمیان بڑھتے فاصلے کو کم کرنے کے لیے دونوں ممالک کے درمیان کرکٹ میچز ایک آغاز ہو سکتا تھا، لیکن جتنی شدت سے اس فیصلے کے خلاف سوشل میڈیا پر افغان عوام کا احتجاج سامنے آیا ہے، دونوں ممالک کے درمیان یہ فاصلے اتنی جلدی گھٹتے نظر نہیں آرہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں